ایران کا ایٹمی دھماکہ قریب؟ خطرناک امریکی ماسٹر پلان بے نقاب

واشنگٹن/تہران(جانوڈاٹ پی کے) مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے ایٹمی تصادم کی دہلیز تک پہنچ گئے ہیں جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری ہتھیاروں کی تیاری روکنے کے لیے اصفہان میں براہِ راست ‘کمانڈو ایکشن’ اور ابنائے ہرمز کے اسٹریٹجک ‘جزیرہ خارگ’ پر قبضے کا حکم دے دیا ہے۔ معتبر امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ ایران نے اصفہان کے پہاڑوں میں چھپے اپنے جوہری مرکز کی مرمت مکمل کر لی ہے جہاں 60 فیصد افزودہ یورینیم کا بڑا ذخیرہ موجود ہے، جو محض ایک تکنیکی قدم کی دوری پر 11 ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہے۔ امریکی ڈیلٹا فورس کو ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ ایرانی حدود میں داخل ہو کر اس افزودہ یورینیم کو اپنے قبضے میں لے کر امریکہ منتقل کرے تاکہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی، امریکہ نے ایران کی معیشت کا دل کہلانے والے جزیرہ خارگ پر، جہاں سے ایران کی 90 فیصد تیل کی برآمدات ہوتی ہیں، قبضے کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے تاکہ تہران کو مکمل معاشی مفلوج کیا جا سکے۔ اس خطرناک عسکری صورتحال، خلیجی ممالک کے ممکنہ کردار اور پاکستان پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے سینئر صحافی معظم فخر کا یہ چشم کشا وی لاگ دیکھئے:




