گرین لینڈ بمقابلہ نیٹو: برف کے نیچے چھپی عالمی جنگ

معظم فخر
ایک زمانہ تھا جب گرین لینڈ محض برف میں لپٹا ایک خاموش جزیرہ سمجھا جاتا تھا،نہ خبروں میں، نہ عالمی سیاست کے اعصاب پر۔ سرد جنگ کے بعد امریکہ اور نیٹو نے اسے تقریباً نظرانداز کر دیا، فوجی اڈے سکڑ گئے اور آرکٹک کو دانستہ طور پر روس کے لیے “حساس” نہ بنایا گیا۔ مگر اب وہی برفانی خطہ عالمی طاقتوں کے درمیان اعصابی جنگ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔
امریکہ کی پالیسی میں اچانک آئی یہ تبدیلی محض جغرافیہ کی محبت نہیں بلکہ خوف کی علامت ہے۔۔۔روس اور چین کا خوف۔۔۔ آرکٹک میں دونوں ممالک کی بڑھتی ہوئی مشترکہ سرگرمیاں واشنگٹن کو یہ احساس دلا رہی ہیں کہ اگر اب بھی خاموشی اختیار کی گئی تو شمالی راستے، میزائل نگرانی اور نادر معدنیات سب ہاتھ سے نکل سکتے ہیں۔ اسی خوف نے گرین لینڈ کو ایک بار پھر اسٹریٹجک نقشے پر روشن کر دیا ہے۔
لیکن مسئلہ یہاں سے شروع ہوتا ہے۔ طاقت کے اس نئے شوق میں امریکہ کے لہجے نے سفارت کاری کے بجائے دھمکی کا رنگ اختیار کر لیا۔ گرین لینڈ کو “حاصل کرنے” کی باتیں، حتیٰ کہ فوجی طاقت کے امکان کا اشارہ، محض ایک جزیرے کی بات نہیں رہتیں،یہ نیٹو کے دل پر رکھا گیا سوالیہ نشان بن جاتی ہیں۔ کیونکہ گرین لینڈ ڈنمارک کا حصہ ہے، اور ڈنمارک نیٹو کا رکن۔ اگر ایک اتحادی دوسرے پر طاقت آزمائے تو پھر اتحاد کا مطلب کیا رہ جاتا ہے؟
یہی وجہ ہے کہ یورپ میں خطرے کی گھنٹیاں بج رہی ہیں۔ ڈنمارک اور گرین لینڈ کا ردعمل محض جذباتی نہیں بلکہ اصولی ہے: خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں۔ ان کے لیے یہ صرف زمین کا ٹکڑا نہیں بلکہ نیٹو کے اس وعدے کا امتحان ہے جس کی بنیاد باہمی اعتماد اور دفاع پر رکھی گئی تھی۔ اگر یہ وعدہ ٹوٹا تو نیٹو محض ایک نام رہ جائے گا۔
ادھر امریکہ کے لیے گرین لینڈ ایک خزانہ بھی ہے،نادر معدنیات، جدید میزائل ڈیفنس، اور وہ جغرافیائی برتری جو چین اور روس دونوں کی سانسیں ناپ سکتی ہے۔ اسی کشمکش میں آرکٹک اب خاموش نہیں رہا۔ برف پگھل رہی ہے، راستے کھل رہے ہیں، اور طاقتیں آمنے سامنے آ رہی ہیں۔
یہ پوری کہانی ہمیں ایک خطرناک موڑ کی طرف لے جاتی ہے: اگر جارحانہ سوچ نے اتحاد پر سبقت لے لی تو وہ نیٹو جو دنیا کو محفوظ بنانے کا دعویدار تھا، خود اپنی بنیادوں میں دراڑیں پیدا کر لے گا۔ گرین لینڈ کا معاملہ اب صرف برف یا وسائل کا نہیں رہا،یہ اس بات کا فیصلہ ہے کہ مغرب طاقت کے زور پر چلے گا یا اصولوں کے سہارے۔ اور شاید یہی فیصلہ آنے والے عالمی عدم استحکام کی سمت طے کرے گا۔
