عطا اللہ بجیر بلاجواز گرفتار، پولیس اسے پھنسانا چاہتی ہے، ورثاء کا آئی جی کو خط

مٹھی (رپورٹ : میندھرو کاجھروی / جانو ڈاٹ پی کے) ڈیپلو کے قریب مبینہ طور پر پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے رمضان کھوسو کے کیس میں پولیس اہلکار عطا اللہ بجیر کی گمشدگی کا معاملہ سامنے آیاہے جس ضمن میں عطا اللہ بجیر کے ورثاء نے آئی جی سندھ کو خط لکھا ہے۔
عطا اللہ بجیر کے چچا عبداالکریم بجیر کی طرف سے لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ کیس میں ملوث ملزمان کو بچانے کے لیے ہمارے نوجوان کو پھنسایا جا رہا ہے۔ میڈیا کو موصول ہونے والے خط میں ورثاء نے موقف اختیار کیا ہے کہ رمضان کھوسو قتل کا مقدمہ ایس ایچ او حسین بخش راجڑ، تین پولیس اہلکاروں اور ایک پرائیویٹ کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ اب ان کی حفاظت کے لیے میرے بھتیجے کو چار دن سے اغوا کر کے تشدد کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ میرا بھتیجا ٹریننگ پر تھا اور ڈیپلو میں ڈیوٹی پر تعینات تھا۔ رمضان کھوسو وقوعہ کے روز گھر پر تھا اور تھانے سے بھی غیر حاضر تھا اس کے باوجود اسے تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
پولیس نے مقدمے میں پانچ ملزمان کو شامل کیا ہے۔ پولیس بااثر لوگوں کو بچانے کے لیے میرے بھانجے کو تشدد کا نشانہ بنا کر پھنسانا چاہتی تھی اور ایس ایس پی کو گمراہ کیا گیا ہے۔
نوجوان کی گمشدگی کے خلاف بجیر برادری نے چار روز سے احتجاج کی کال دی ہے۔
دریں اثناء معاملے کے حوالے سے ایس ایس پی تھرپارکر شعیب میمن سے رابطہ کرنے کے باوجود رابطہ نہیں ہو سکا۔



