"رمضان کے قاتلوں کی عدم گرفتاری”ورثاء کا مٹھی میں دھرنا
ایس پی کا تین ملزمان کی گرفتاری کا دعویٰ، یقین دھانی پر دھرنا ختم

مٹھی(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/ جانو ڈاٹ پی کے)ڈیپلو کے قریب علی بندر روڈ پر کار میں فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے نوجوان رمضان کھوسو کے ورثاء نے قاتلوں کی عدم گرفتاری کے خلاف مٹھی شہر کے کشمیر چوک پر احتجاجی مظاہرہ کرکے دھرنا دیا، جہاں سے انہوں نے ایس ایس پی تھرپارکر کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا، احتجاجی مارچ کی صورت میں نعرے بازی کی۔
اس موقع پر ایس ایس پی تھرپارکر کی جانب سے بنائی گئی تحقیقاتی کمیٹی کے انچارج لطف اللہ لغاری اور ایس ایچ او مٹھی پہنچ گئے اور مذاکرات کئے۔ اس موقع پر تفتیشی انچارج نے کہا کہ ہم دو دن میں ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کریں گے۔ گرفتار پھلاج میگھواڑ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ میں اس سے واقف نہیں، میں نے اسے گرفتار نہیں کیا۔
دریں اثناء ورثاء نے پولیس کی تفتیش پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ رمضان کے قتل کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔
جبکہ دھرنے میں موجود ارباب انور عبدالجبار کا کہنا تھا کہ پولیس کیس کو گھمبیر کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاہم جو بھی ہو ملزمان کو ضرور گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی جوان ہیں، انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ ملزم کو گرفتار کریں گے، جتنا بھی دباؤ ہو، وعدہ پورا کرنا چاہیے، مجھے یقین ہے کہ ایس پی وعدہ پورا کرے گا، چاہے نفع ہو یا نقصان۔دھرنے میں موجود مقتول کے والد کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار ایک دوسرے کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، ملزمان کو گرفتار نہیں کر رہے۔دریں اثناء ایس ایس پی تھرپارکر محمد شعیب میمن نے دھرنے کے مرکزی رہنماؤں کو دفتر بلا کر مذاکرات کئے۔اس موقع پر ایس ایس پی تھرپارکر شعیب میمن نے رمضان کھوسو قتل کیس میں 3 ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ بھی کیا۔انہوں نے کہا کہ ہم نے 3 ملزمان کو گرفتار کیا ہے جن میں سے ایک کا ایف آئی آر میں ذکر نہیں ہے۔ایس ایس پی تھرپارکر شعیب میمن کی جانب سے مزید ملزمان کی گرفتاری کی یقین دہانی کے بعد ورثاء نے دھرنا ختم کردیا۔



