بدین:عدالت نے گرفتار3 طلبہ کو ضمانت پر رہا کر دیا، ایک طالب علم تاحال لاپتہ

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو/ڈاٹ/پی کے)کھوسکی پولیس کی جانب سے گرفتار کیئے گئے چار معصوم طالب علموں میں سے تین پر دو الگ الگ پولیس مقابلے کے مقدمات درج کر لیئے بدین کی عدالت نے تینوں کی ضمانت منظور کرکے ان رہا کرنے کا حکم جاری کردیا ہے جبکہ ایک نویں جماعت کا طالب علم تاحال لاپتہ ہے تفصیلات کے مطابق تھر ضلع کے شہر کلوئی کے رہائشی معصوم طالب علموں کو گزشتہ روز کھوسکی پولیس نے کلوئی جاتے ہوئے راستے سے گرفتار کرکے ان پر شدید تشدد کرنے کے بعد تین طالب علموں نثار ھالو عظیم ھالو اور شکیل ھالو پر دو الگ الگ پولیس مقابلے کے جھوٹے مقدمات درج کرکے انہیں ڈسٹرکٹ جیل بدین روانہ کردیا جبکہ ایک نویں جماعت کا طالبعلم محمد حفیظ کو لاپتہ کردیا ہے گرفتار 3 طلبہ کو بدین کی عدالت نے ضمانت منظور کرکے ان کو رہا کرنے کا حکم جاری کردیا جبکہ پولیس کی جانب سے گرفتار نویں جماعت کا طالبعلم تاحال منظر عام پر نہیں لایا گیا کھوسکی پولیس کے ہاتھوں لاپتہ کیے گئے نویں جماعت کے طالبعلم حفیظ ہالو کے ورثاء نے بدین کی عدالت میں اس کی گمشدگی کی درخواست دائر کر دی ہے، جس میں پولیس پر بااثر افراد کے دباؤ میں آ کر طالبعلم کو لاپتہ کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے پولیس کے ہاتھوں لاپتہ طالبعلم محمد حفیظ ھالو کے نویں جماعت کے امتحانات شروع ہو چکے ہیں، اور اس کا آ ج پہلا پرچہ تھا بغیر کسی جرم کے لاپتہ کرنا ایک سنگین جرم قرار دیا جا رہا ہے ورثاء نے پولیس اور بااثر افراد کے خلاف مقدمہ درج کروانے کا فیصلہ کیا ہے ورثاء کے مطابق لاپتہ طالبعلم دل کے مرض میں مبتلا ہے، اور اگر اسے کچھ ہوا تو اس کے ذمہ دار بااثر افراد اور پولیس ہوں گی
دوسری جانب طلبہ کے چچہ اور کلوئی کے صحافی رضا ھالو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کھوسکی پولیس نے بااثر افراد کے کہنے پر بے گناہ طلبہ پر ظلم کی انتہا کر دی ہے ایک بیمار طالبعلم کو لاپتہ کرنا انسانیت کے خلاف عمل ہے انہونے مطالبہ کیا ہے کہ لاپتہ طالبعلم کو بازیاب کر کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں اور بااثر افراد کے خلاف کارروائی کی جائے



