میرپورخاص: 28 پرائمری اساتذہ گھوسٹ قرار، فائنل شوکاز نوٹسز جاری

میرپورخاص (رپورٹ شاھدمیمن\جانوڈاٹ پی کے) نویں اور دسویں کے سالانا امتحانات شروع میرپورخاص ڈویژن کے تین اضلاع میں 28 پرائمری اساتذہ اپنی ڈیوٹیوں سے غائب پائے گئے ہیں جنہیں گھوسٹ ٹیچر قرار دے دیا گیا ہے۔ محکمہ تعلیم کے حکام کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹسز کا جواب نہ دینے پر ان اساتذہ کو فائنل شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے۔ غیر حاضر اساتذہ میں مرد و خواتین دونوں شامل ہیں۔ گھوسٹ اساتذہ میں ضلع میرپورخاص کے 4، عمرکوٹ کے 12 اور تھرپارکر کے 12 اساتذہ شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق میرپورخاص ڈویژن کے اضلاع میرپورخاص، عمرکوٹ اور تھرپارکر میں 28 پرائمری اسکول اساتذہ گھوسٹ قرار دیے گئے ہیں۔ میرپورخاص ضلع کے اساتذہ میں مس سمیرہ، مسٹر راجہ اشتیاق، مس فرزانہ اور مس مہوش شامل ہیں۔ عمرکوٹ ضلع کے اساتذہ میں محمد محسن، مسمات ست بائی، عبدالکریم، سانول، دلیپ، رضوان حسین، محمد عرس، کرشن، مسمات مریم، شریمتی ودیا، سلطان اور امیر بخش شامل ہیں۔ جبکہ تھرپارکر ضلع کے 12 اساتذہ میں سدھیر کمار، نرین داس، مسمات زرینہ، محمد ملوک، کشن چند، مسمات کونج میمن، نیلم، نیلم، شہاب نواز، دلیپ کمار، مس نیلم اور ششیلا کماری شامل ہیں۔ ان تمام اساتذہ کو محکمہ تعلیم کی جانب سے فائنل شوکاز نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔
ڈائریکٹر اسکول ایجوکیشن میرپورخاص پروفیسر فقیر محمد خاصخیلی کے مطابق تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانا انتہائی ضروری ہے اور کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
ڈائریکٹوریٹ اسکول ایجوکیشن (پرائمری) میرپورخاص ریجن کی جانب سے بغیر اجازت ڈیوٹی سے غیر حاضر رہنے والے اساتذہ اور عملے کے خلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تینوں اضلاع میرپورخاص، عمرکوٹ اور تھرپارکر سے تعلق رکھنے والے 28 سے زائد ملازمین طویل عرصے سے بغیر اطلاع اپنی ڈیوٹیوں سے غیر حاضر ہیں۔ ایسے ملازمین کو پہلے بھی نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں لیکن انہوں نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ اب انہیں آخری موقع دیتے ہوئے ہدایت کی گئی ہے کہ نوٹس جاری ہونے کے 7 دن کے اندر اپنی غیر حاضری کی وضاحت پیش کریں اور فوری طور پر ڈیوٹی پر حاضر ہوں۔
نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ مقررہ وقت میں جواب نہ دینے یا ڈیوٹی پر حاضر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ ملازمین کے خلاف سندھ سول سرونٹس قانون کے تحت کارروائی کرتے ہوئے انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا جائے گا۔



