میرپورخاص تعلیمی بورڈ اسکینڈل کے گواہوں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں

میرپورخاص (شاھدمیمن) میرپورخاص تعلیمی بورڈ اسکینڈل:بورڈ اسکینڈل فاش کرنے پر جان کے خطرات” گواہوں کا بڑا الزام

میرپورخاص تعلیمی بورڈ کے میگا کرپشن اسکینڈل اہم گواہوں نے کھل کر سامنے آتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سچ بیان کرنے پر انہیں سنگین دھمکیوں کا سامنا ہے اور بیانات بدلنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

مشترکہ پریس کانفرنس میں علی رضا رند، سابق اسسٹنٹ کمپیوٹر پروگرامر اعظم خان،نجی اسکول کے مالک محمد عارف قائم خانی اور بلال رند نے کہا کہ وہ کسی دباؤ میں نہیں آئیں گے اور ہر قیمت پر سچ کا ساتھ دیں گے۔

بورڈ ملازم اعظم خان نے کہا کہ بورڈ میں منظم انداز میں بے ضابطگیاں ہو رہی تھیں، جعلی سرٹیفکیٹس اور نمبرز بڑھانے کا کام معمول بن چکا تھا۔انہوں نے الزام لگایا کہ انور علیم کو کئی بار روکا کہ وہ یہ کام نہ کریں لیکن وہ اس وقت بھی کیس درج کروانے کی دھمکیاں دیتا تھا جبکہ اب بھی ان کے بیان کے بعد انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں دلوائج جا رہی ہیں۔

علی رضا رند نے انکشاف کیا کہ وہ براہِ راست سابق کنٹرولر انور علیم خانزادہ کو مارک شیٹس بھیجتے تھے، جہاں نمبرز میں ردوبدل کیا جاتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے عدالت میں دفعہ 164 کے تحت بھی سچ بیان کیا، مگر اب انہیں اور ان کے خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔

نجی اسکول سامارو کے مالک محمد عارف قائم خانی نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ 2021 سے 2025 کے دوران ان کے اسکول کے نام پر 1275 جعلی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، جبکہ ادارے کو اس کا علم تک نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بھی خاموش رہنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے۔

بلال رند نے اعتراف کیا کہ وہ ماضی میں اس عمل کا حصہ رہے ناظم امتحانات انور علیم سے براہ راست رابطہ میں رہتے تھے اور نتائج میں رد وبدل کرواتا تھا، لیکن اب سچ سامنے لانے پر انہیں اور ان کے بھائی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

گواہوں نے خبردار کیا کہ اگر انہیں یا ان کے اہل خانہ کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری انور علیم اور ان عناصر پر ہوگی جن کے خلاف وہ بیان دے رہے ہیں

مزید خبریں

Back to top button