ٹرمپ کی پوتن کو کال: کیا جنگِ عظیم کا آغاز ہو چکا ہے؟ فیصل وڑائچ کا خصوصی تجزیہ!

لاہور(خصوصی رپورٹ) امریکہ اور اسرائیل کا مکروہ اتحاد خطے کو ایک ایسی تباہ کن جنگ میں جھونک رہا ہے جس کا کوئی واضح مقصد نہیں، سوائے تباہی کے۔
یہ کہنا ہے سینئر صحافی امداد سومرو کے ساتھ ایک خصوصی نشست میں معروف تجزیہ نگار فیصل وڑائچ کا۔ فیصل وڑائچ نے انکشاف کیا کہ بحرین میں پکڑا جانے والا بھارتی جاسوس ’موساد‘ کے اس وسیع تر نیٹ ورک کا حصہ ہے جو عرب ممالک میں تخریب کاری کے ذریعے ایران کو اشتعال دلا کر خطے کو خانہ جنگی میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے امریکی قیادت کی جانب سے استعمال کی جانے والی غیر سنجیدہ زبان کو ایک "بدمعاش” کے طرزِ عمل سے تعبیر کیا اور کہا کہ ٹرمپ کا پوتن سے رابطہ کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ جنگ میں بوکھلاہٹ اور ناکامی کا شکار ہو چکا ہے۔ فیصل وڑائچ کے مطابق، ایران کی نئی قیادت اس معاملے میں نہایت سخت گیر ہے اور اگر امریکہ نے ایرانی حکام کو نشانہ بنانے کی حماقت کی، تو یہ ان کے لیے ایک ایسا "نائٹ میئر” ثابت ہوگا جس کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ اس تمام صورتحال میں پاکستان ایک سنگین دوراہے پر کھڑا ہے، جہاں اسے ایران کے ساتھ مذہبی و سفارتی تعلقات اور سعودی عرب کے ساتھ اپنے معاشی مفادات کے درمیان ایک مشکل توازن برقرار رکھنا ہوگا، جس کے لیے پاکستان کو اپنی داخلی سیاسی صورتحال کو مستحکم کرنا اشد ضروری ہے۔
اس خصوصی نشست کا مکمل احوال جاننے کے لیے یہاں دیکھیں:




