تھرپارکر میں نامعلوم وجوہات پرنوجوان جوڑے کی خودکشی،علاقے میں سوگ کی فضا،پولیس کی روایتی تفتیش جاری

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی)ضلع تھرپارکر کی تحصیل ننگرپارکر کے گاؤں آدھیگام میں اجتماعی خودکشی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جس میں 16 سالہ دیارام ولد تیجو کولہی اور 15 سالہ ونو بنت آنچلو کولہی نے گاؤں کے قریب کھیت میں اپنی گردنوں میں رسی ڈال کر خود کو پھانسی دے دی۔
لاشیں لٹکی ہوئی حالت میں دیکھ کر گاؤں والوں نے پولیس کو اطلاع دی، جس پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور دونوں لاشوں کو اسپتال منتقل کیا، جہاں ضروری قانونی کارروائی کے بعد لاشیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔
علاقے میں سوگ کی فضا قائم ہے، جبکہ اس نوعیت کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ پولیس نے واقعے کی باقاعدہ رپورٹ درج کر کے روایتی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ چند روز قبل اسلام کوٹ کے قریب بھی ایسا ہی دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا تھا۔ تھرپارکر جیسے پُرامن علاقے میں بڑھتے ہوئے خودکشی کے واقعات نے مقامی آبادی میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق حالیہ واقعات کی باقاعدہ اور مکمل تحقیقات کے حوالے سے تاحال کوئی واضح نتائج سامنے نہیں آ سکے۔ سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اور شفاف تحقیقات کی جائیں تو اصل وجوہات تک پہنچا جا سکتا ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
علاقے کے باشعور افراد کا خیال ہے کہ خودکشیاں کسی ایک سبب کا نتیجہ نہیں ہوتیں بلکہ متعدد سماجی اور معاشی مسائل افراد کو ذہنی دباؤ کا شکار بنا دیتے ہیں۔ بے روزگاری، غربت، قرض اور سود کا بوجھ، گھریلو تنازعات، سماجی دباؤ، شادی نہ ہونے کے مسائل اور بااثر افراد کا خوف سمیت کئی عوامل لوگوں کو ایسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔
تھرپارکر میں ماضی میں خودکشی کے موضوع پر متعدد سیمینارز اور پروگرام منعقد کیے گئے، لیکن مقامی افراد کے مطابق یہ سرگرمیاں زیادہ تر رسمی کارروائیوں اور تصویری سیشن تک محدود رہیں۔ عملی اقدامات، نفسیاتی سہولیات کی فراہمی، روزگار کے مواقع پیدا کرنا اور نوجوانوں کے لیے کاؤنسلنگ سینٹرز کا قیام جیسی بنیادی ضروریات اب تک پوری نہیں ہو سکیں۔
اسلام کوٹ اور ننگرپارکر میں خودکشی کے بڑھتے واقعات کے باعث عوام سوال اٹھا رہے ہیں کہ “تھر بدلے گا پاکستان” کا نعرہ کس حد تک عملی شکل اختیار کرے گا؟ کیا تبدیلی صرف منصوبوں کے اعلانات سے آئے گی یا عوام کے بنیادی مسائل بھی حل ہوں گے؟
سماجی رہنماؤں اور شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حالیہ واقعات کی شفاف تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے، اور ضلعی سطح پر نفسیاتی ماہرین، سماجی کارکنوں اور انتظامیہ پر مشتمل ٹاسک فورس قائم کر کے مؤثر حکمتِ عملی ترتیب دی جائے۔
ماہرین کے مطابق ذہنی دباؤ کا شکار افراد اکثر مدد کے منتظر ہوتے ہیں، اس لیے خاندانوں، اساتذہ اور معاشرے کو چاہیے کہ نوجوانوں سے قریبی رابطہ رکھیں، ان کی بات سنیں اور ضرورت پڑنے پر پیشہ ورانہ مشاورت فراہم کریں۔
تھرپارکر کے عوام نے امید ظاہر کی ہے کہ حکومت، سماجی تنظیمیں اور بااثر حلقے مل کر سنجیدہ اقدامات کریں گے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچایا جا سکے اور حقیقی معنوں میں مثبت تبدیلی لائی جا سکے۔



