بابائے صحافت مولانا ظفرعلی خان کی 69ویں برسی کی تقریبات،علمی و ادبی شخصیات اور صحافیوں کا شاندار خراجِ عقیدت

وزیرآباد(نامہ نگار) بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کی 69 ویں برسی کی تقریبات علمی ادبی شخصیات و صحافیوں کی شرکت مولانا ظفر علی خان کو خراج عقیدت پیش کیا گیا مولانا ظفر علی خان فاونڈیشن اور بابائے صحافت پریس کلب وزیرآباد کی جانب سے تقریبات میں مولانا ظفر علی خان کی پوتی ریحانہ خاتون،سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی،ڈاکٹر خالد محمود،محمد آصف بھلی ایڈووکیٹ،پروفیسر وقار ملک،ڈاکٹر شفیق جالندھری،ڈاکٹر مجاہد منصوری،ایم پی اے وقار احمد چیمہ،بابو شعیب ادریس،شکیل اعظم،میر تیمور ارشد،الیاس خان،سید ضیاء النور شاہ،صابر حسین بٹ افتخار احمد بٹ،سید ضمیر کاظمی،میاں شہباز احمد،نجیب اللہ ملک،سید مستجاب زیدی،پروفیسر حافظ منیر احمد کی شرکت۔بابائے صحافت مولانا ظفر علی خان کے مزار کرم آباد میں رکھی گئی تقریبات میں مولانا ظفر علی خان علمی ادبی اور ملی خدمات پر گفتگو کرتے ہوے سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان اپنی ذات میں ایک ادارہ تھے ان کی شاعری،خطابت،صحافت کا کوئی ثانی نہ تھا ان کا اخبار زمیندار بھی بے مثل و بے مثال تھا زمیندار اخبار صرف برصغیر کے مسلمانوں کا نمائندہ اخبار نہیں تھا بلکہ زمیندار اخبار عالم اسلام کا نمائندہ اخبار تھا انہوں نے اپنی شاعری نثر نگاری صحافت اور خطابت سے تحریک آزادی پاکستان کے لیے جو کام کیا وہ لازوال ہے ایم پی اے وقار احمد چیمہ نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان کی زندگی اور ان کے قلم سے لکھی تحریریں آنے والی نسلوں کے لیے مشعل راہ ہیں محترمہ ریحانہ خاتون نے کہا کہ مولانا ظفر علی خان عشق رسول اللہ سے لبریز شخصیت تھے وہ پکے و سچے عاشق رسول تھے اور عشق رسول کا دعوی نہیں بلکہ اس کی عملی تصویر ان میں موجود تھی وہ حق بات پر ڈٹ جاتے ان کی زندگی ہمیں سبق دیتی ہے کہ ہم ظلم کے خلاف کھڑے ہوں اور مظلوم کے حمایتی بابائے صحافت پریس کلب وزیرآباد اور مولانا ظفر علی خان فاونڈیشن کی تقریبات میں مولانا ظفر علی خان کی 69 ویں برسی کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا اور معرفت کی دعا کی گئی بابائے صحافت پریس کلب وزیرآباد کے پروگرام میں ضلع بھر سے شریک صحافیوں کو بابائے صحافت سالانہ ایوارڈز سے نوازا گیا۔



