ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا خواہاں نہیں، صدرمسعود پیزشکیان کا بیان

تہران(ویب ڈیسک) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کا خواہاں نہیں۔ صدر پیزشکیان نے ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا بیان اس وقت دیا ہے جب واشنگٹن مین ایران کی نیوکلئیر تنصیبات مین موجود ساٹھ فیصد افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو تحویل میں لینے کے لئے فوج بھیجنے کے منصوبہ کی معلومات میڈیا میں لیک کی جا رہی ہیں۔

نوروز  پر ایرانی عوام کے لئے اپنے پیغام میں مسعود پیزشکیان نے کہا کہ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ایٹمی ہتھیاروں کو مذہبی طور پر ممنوع قرار دیا ہے کوئی بھی ایرانی حکومتی اہلکار ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر سکتا۔

پیزشکیان نے پیغام دیا کہ ایران اپنے پڑوسیوں سے جنگ نہیں چاہتا۔  پڑوسی ممالک سےتمام اختلافات حل کرنا چاہتے ہیں۔ مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران کے عوام کی تمام  مشکلات دشمنوں کی مداخلت کا نتیجہ ہیں۔

 صدر مسعود پیزشکیان نے کہا کہ ایران نے امن کیلئے اسلامی ممالک کا سیکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دینےکی تجویز دی ہے۔

 ایران کے صدر مسعود پیزشکیان کے نوروز کے پیغام میں ایٹمی ہتھیار نہ بنانے کا ذکر اس وقت آیا جب واشنگٹن میں ایران کے خطرناک حد تک افزودہ کی جا چکی 972 پاؤنڈ  یورینیم کے ذخائر کو تحویل مین لینے کے لئے امریکی فوج کو ایران کے اندر بھیجنے کے منصوبے کے متعلق لیکس میڈیا میں آ رہی ہیں۔ آج صبح امریکی نیوز ااؤٹ لیٹ   سی بی ایس نے ایک سٹوری شائع کی ہے جس میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران مین فوج بھیجنے  کا فیصلہ کر چکے ہیں اور اس کارروائی کی پلاننگ کی جا  چکی ہے۔

سی بی ایس کے مطابق امریکی فوج نے اس بات پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے کہ اگر واشنگٹن حملہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو ایرانی فورسز کو ممکنہ طور پر حراست میں لینے کے کام کو کیسے منظم کیا جائے۔ منصوبہ پر عملدرآمد کب ہو گا یہ ٹرمپ طے کریں گے۔

آج ہی ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر یہ الزام بھی لگایا کہ انہوں نے نطنز کے نیئوکلئیر  کمپلیکس پر حملہ کیا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button