ڈہرکی میں ماری کسان دوست پروگرام کا آغاز، کروڑوں روپے کی سبسڈی اور جدید زرعی سہولیات فراہم

ڈہرکی (رپورٹ: وجے کمار چاولہ)ڈہرکی میں ماری کسان دوست پروگرام کا آغاز مقامی کسانوں کے لیے کروڑوں روپے کی سبسڈی، زرعی ترقی اور معیشت کی مضبوطی کی جانب اہم قدم

ڈہرکی میں ملکی معیشت کو بہتر بنانے اور زرعی شعبے کو مضبوط کرنے کے لیے توانائی، گیس اور تیل پیدا کرنے والی مقامی نجی کمپنی ماری انرجی کمپنی نے اپنے کارپوریٹ سوشل ریسپانسیبلٹی (CSR) پروگرام کے تحت "ماڑی کسان دوست پروگرام” کا آغاز کیا ہے کروڑوں روپے کی سبسڈی، جدید زرعی سہولیات اور تربیت کے ساتھ اس پروگرام سے ہزاروں کسان مستفید ہو رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ پروگرام نہ صرف مقامی کسانوں کو مالی معاونت فراہم کر رہا ہے بلکہ ملکی زرعی پیداوار میں اضافہ کر کے قومی معیشت کو مستحکم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو رہا ہے کمپنی معیاری بیج، زرعی ماہرین کے مشورے، جدید ٹیکنالوجی اور تربیتی سہولیات فراہم کر رہی ہے جس کی وجہ سے زمین کی پیداوار میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے کمپنی انتظامیہ کے مطابق سی ایس آر فنڈز سے کسانوں کے لیے کروڑوں روپے کی سبسڈی مختص کی گئی ہے۔ اس تعاون سے کسان نہ صرف اپنے اخراجات کم کر رہے ہیں بلکہ ہر سال فصلوں کو ہونے والے لاکھوں روپے کے ممکنہ نقصان سے بھی بچا رہے ہیں۔ کمپنی کے سینئر حکام کا کہنا ہے کہ "ماری کسان دوست پروگرام” کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور ملکی معیشت کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمپنی کا مقصد صرف توانائی کی پیداوار تک محدود نہیں ہے بلکہ سماجی ذمہ داری کو نبھاتے ہوئے مقامی کمیونٹیز کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کرنا بھی ہے۔ دوسری جانب کسانوں کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کی وجہ سے ان کے زرعی اخراجات میں نمایاں کمی ہوئی ہے اور فصلوں کی پیداوار میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ایک کسان کا کہنا تھا کہ اگر یہ پروگرام مستقل بنیادوں پر جاری رہے تو ہماری زندگیاں خوشحال ہوں گی، ہمارے بچوں کا مستقبل محفوظ ہو گا اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا زرعی ماہرین کا خیال ہے کہ ایسے اقدامات سے زرعی شعبے میں جدید کاری آئے گی جس سے ملک کی زرعی برآمدات میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہو گا مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بڑھنے کے ساتھ ساتھ قومی آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔ ڈہرکی کی جانب سے شروع کیے گئے "ماری کسان دوست پروگرام” کو مقامی سطح پر ایک مثبت اور تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے اگر ایسے فلاحی منصوبے تسلسل کے ساتھ جاری رہے تو نہ صرف کسانوں کی خوشحالی ممکن ہو سکے گی بلکہ پاکستان کی زرعی معیشت بھی مزید مستحکم اور خود کفیل ہو جائے گی

مزید خبریں

Back to top button