چین میں داخلے پر پابندی کے باوجود مارکو روبیو بیجنگ کیسے پہنچے،تفصیلات سامنے آگئیں

لندن(جانوڈاٹ پی کے)عالمی سفارت کاری میں اکثر سفری پابندیاں، معطل ویزے اور سخت بیانات خبروں کا مرکز بنتے رہتے ہیں لیکن اس بار امریکا اور چین کے درمیان ایک دلچسپ صورت حال نے سب کو حیران کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اعلیٰ وفد کے ہمراہ چین کے دورے پر بیجنگ پہنچے ہیں جہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔
امریکی صدر کے اس دورۂ چین میں ایک مشکل کا چین نے جس دلچسپ انداز میں سفارتی حل نکالا وہ حیران کن تھا۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو برسوں سے چین پر سخت تنقید کرتے آئے ہیں جس کے باعث چین نے ان پر سفری پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔
مارکو روبیو بھی صدر ٹرمپ کے ساتھ چین کے دورے میں شریک مہمانوں میں شامل تھے جس کے لیے ان پر سے سفری پابندی ہٹانا لازمی تھا تاکہ انھیں چین میں اترنے کی اجازت مل سکے۔
جس کے لیے راستہ کسی معاہدے یا پابندی ہٹانے سے نہیں بلکہ نام کے ہجے بدلنے سے نکالا گیا یعنی مارکو روبیو کے نام کے چینی تلفظ میں خاموشی سے تبدیلی کردی۔
اس طرح پابندی بھی عائد رہی اور مارکو روبیو کو سفری اجازت بھی مل گئی۔ یوں مارکو روبیو نے چین کا سفر مارکو لو کے نام سے کیا۔
یاد رہے کہ ماضی میں بھی جن چینی حرف کے ذریعے ’’روبیو‘‘ لکھا جاتا تھا وہی نام پابندیوں کی فہرست میں شامل تھا۔
تاہم جب سے صدر ٹرمپ نے روبیو کو وزیر خارجہ نامزد کیا تو چین نے ان کے نام کے پہلے حصے کے لیے دوسرا چینی حرف استعمال کرنا شروع کردیا تھا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق یہ دراصل ایک سفارتی گنجائش نکالنے کی تدبیر ہے یعنی پابندیاں بھی برقرار رہیں اور اعلیٰ سطح کا دورہ بھی ممکن ہوگیا۔
دو سفارتکاروں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ چونکہ پرانا چینی نام پابندیوں سے جڑا ہوا تھا اس لیے نیا تلفظ اختیار کرکے روبیو کے چین آنے کی راہ نکالی گئی۔
چینی سفارت خانے کے ترجمان نے بھی وضاحت کی کہ پابندیاں روبیو کے اُن بیانات اور اقدامات پر تھیں جو انہوں نے بطور امریکی سینیٹر چین کے خلاف کیے تھے نہ کہ ان کی موجودہ حیثیت پر یعنی وزیر خارجہ بننے کے بعد کے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ چین میں غیرملکی شخصیات کے ناموں کے ایک سے زیادہ چینی تلفظ ہونا کوئی نئی بات نہیں۔
خود صدر ٹرمپ کو بھی چین میں دو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ سرکاری میڈیا انھیں “تیلانگپو” کہتا ہے جبکہ عوامی سطح پر “چوانگپو” بھی کافی مشہور ہے۔
واضح رہے کہ مارکو روبیو ماضی میں چین کے سخت ناقد رہے ہیں اور بالخصوص ایغور مسلمانوں پر جبر اور پابندیوں پر نہ صرف آواز اُٹھاتے رہے ہیں بلکہ چین پر پابندیوں کے حامی بھی تھے۔ یہی وجہ تھی کہ چین نے ان پر دو مرتبہ پابندیاں عائد کیں۔



