بھارتی سپریم کورٹ نے منوج باجپائی کی فلم ’گھوس خور پنڈت‘ کا تنازع نمٹا دیا

ممبئی(جانوڈاٹ پی کے)بھارتی اداکار منوج باجپائی کی فلم ’گھوس خور پنڈت‘ کا تنازع سپریم کورٹ نے نمٹا دیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ فلم کے حوالے سے نہ کوئی نئی ایف آئی آر درج کی جائے گی اور نہ ہی اس موضوع پر کسی نئی درخواست پر سماعت ہوگی۔
سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ تنازع کو اب مزید طول دینے کی ضرورت نہیں ہے اور معاملے کو یہیں ختم سمجھا جائے۔
عدالت نے کہا کہ اظہار رائے کی آزادی کے نام پر کسی طبقے یا برادری کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، تاہم موجودہ معاملے میں فلم سازوں کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کو مدنظر رکھتے ہوئے درخواستوں کا تصفیہ کیا جا رہا ہے۔
فلم سازوں اور پروڈکشن ہاؤس نے عدالت میں حلف نامہ داخل کروایا جس میں کہا گیا کہ ان کا کسی بھی مذہب، ذات، برادری یا طبقے کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
حلف نامے میں یہ بھی وضاحت کی گئی کہ فلم ایک خیالی پولیس ڈرامہ ہے، جو ایک مجرمانہ معاملے کی تفتیش پر مبنی ہے اور اس میں کسی مخصوص مذہب یا برادری کو بدعنوان یا منفی انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ فلم کا متنازع عنوان ’گھوس خور پنڈت‘ واپس لے لیا گیا ہے اور نئے نام پر غور جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی تمام پروموشنل مواد، پوسٹر اور ٹریلر بھی ہٹا لیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا اشتعال کو روکا جا سکے۔ فلم سازوں نے یقین دلایا کہ مستقبل میں ایسے معاملات میں زیادہ احتیاط برتی جائے گی۔
یاد رہے کہ اس سے قبل سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے فلم سازوں کو سخت الفاظ میں تنبیہ کی تھی اور کہا تھا کہ آزادیٔ اظہار کی آڑ میں کسی مخصوص طبقے کو نیچا دکھانا قابلِ قبول نہیں ہے۔ عدالت کے ریمارکس کے بعد ہی فلم سے متعلق تشہیری مواد فوری طور پر واپس لے لیا گیا تھا۔



