مینگروز کے پودے لگانے کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات، قدرتی آفات اور سائیکلون سے تحفظ فراہم کرنا ہے، ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ

ٹھٹھہ ( جاوید لطیف میمن) ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سرمد علی بھاگت نے تاریخی مقام بھمبھور کے ساحل سمندر پر مینگروز کے پودے لگا کر شجرکاری مہم کا باقاعدہ آغاز کر دیا. اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ مینگروز کے پودے لگانے کا مقصد ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات، قدرتی آفات اور سائیکلون سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہزاروں سال قدیم آثارِ قدیمہ کی حامل سائٹ بھمبھور کو محفوظ اور فروغ دینا بھی اس مہم کا اہم مقصد ہے تاکہ نوجوان نسل کو اپنی تہذیب اور ثقافت سے روشناس کرایا جا سکے. انہوں نے مزید کہا کہ ضلع ٹھٹھہ کے پورے کوسٹل بیلٹ میں مینگروز کے درختوں کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہی درخت ساحلی پٹی کو سمندری کٹاؤ اور طوفانوں سے محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سرگرمی کے ذریعے ایک مثبت پیغام جائے گا اور عوام میں ماحولیاتی تحفظ کا شعور اجاگر ہوگا۔ ڈپٹی کمشنر نے زور دیا کہ آثارِ قدیمہ کی اس تاریخی سائٹ کو محفوظ بنانے کے لیے مربوط اقدامات کی ضرورت ہے اور مینگروز کی افزائش سے نہ صرف ماحول بہتر ہوگا بلکہ ساحلی علاقوں کا قدرتی دفاع بھی مضبوط ہوگا۔انہوں نے متعلقہ اداروں اور شہریوں پر زور دیا کہ وہ مینگروز کی شجرکاری کو مزید فروغ دیں۔ تقریب میں محکمہ جنگلات، وائلڈ لائف، سیاحت ، ثقافت ، سوشل ویلفیئر اور دیگر محکموں کے افسران، آغا خان فاؤنڈیشن اور دیگر این جی اوز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ سندھ یونیورسٹی کیمپس ٹھٹھہ کے پروفیسرز اور طلبہ، مختلف اسکولوں کی طالبات، وکلاء، صحافی برادری، ماحولیاتی ماہرین اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی موجود تھے۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء نے مینگروز کی اہمیت کو اجاگر کرنے اور ساحلی پٹی کے تحفظ کے لیے مشترکہ کاوشیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔قبل ازیں ڈپٹی کمشنر سرمد علی بھاگت نے شرکاء کو بھبمور میوزیم کا دورہ کروایا جہاں انہوں نے تاریخی نوادرات کے متعلق آگہی بھی فراہم کی –



