وزیرآباد: نہر لوئر چناب کے ہیڈ چھناواں پل کی تعمیر میں فنڈز کی کمی کے باعث تاخیر کا خدشہ

وزیرآباد(جانوڈاٹ پی کے)حکومتی فنڈز کی عدم دستیابی نہر لوئر چناب کے ہیڈ چھناواں پل کی تعمیر میں غیر معمولی تاخیر کا اندیشہ فنڈز کی ترسیل سے قبل ہی کنٹریکٹر کی جانب سے ایڈوانس میں 8درے بنائے جانے کا انکشاف رواں سال جون میں حکومتی فنڈز کے اجراء کا امکان 2 سال بعد ہی فنکشنل کئے جانے کا امکان” اہل علاقہ اور 8 اضلاع کے لاکھوں افراد کے لیے نئے پل کی تعمیر ادھورے خواب میں تبدیل دریائے چناب سے نکلنے والی سب سے بڑی مینول نہر لوئر چناب کا ہیڈ چھناواں کے 140سالہ پرانا پل جس کی معیاد کہیں سال پہلے ختم ہوچکی تھی جس کے پیش نظرنئے پل کوبنانے کی ضرورت پیش آئی۔اب یہ نئے پل کی تعمیر، بجٹ کی عدم فراہمی سے کام متاثرہوگیاہے واضع ہوکہ نہر لوئر چناب کے مقام ہیڈ چھناواں پر زیر تعمیر نئے پل کے منصوبے کا کام پنجاب حکومت کی جانب سے فنڈز جاری نہ ہونے کے باعث سست روی کا شکار ہونے لگا ہے ذرائع کے مطابق ٹھیکیدار نے نہربندی کے دوران ملنے والے محدود وقت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی ذاتی وسائل استعمال کرکے پل کے 8 پیلرز تعمیر کروا دیے ہیں، تاہم منصوبے کے باقی کام کے لیے تاحال حکومت پنجاب کی جانب سے منظور شدہ دو ارب روپے کے بجٹ کی رقم جاری نہیں کی گئی۔مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیڈ چھناواں کے مقام پر نئے پل کی تعمیر اس علاقے کے عوام کا دیرینہ مطالبہ تھا، کیونکہ اس پل کی تکمیل سے وزیرآباد سے براستہ جامکےچٹھہ کوٹ ہرا سے براستہ پنڈی بھٹیاں سرگودھا چنیوٹ فیصل آباد جھنگ گوجرہ کیساتھ ساتھ گردونواح کے علاقوں کے ہزاروں شہریوں کو آمدورفت میں بڑی سہولت میسر آئے گی تاہم فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث منصوبہ تاخیر کا شکار ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے حکومت پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ عوامی مفاد کے اس اہم منصوبے کے لیے فوری طور پر فنڈز جاری کیے جائیں تاکہ پل کی تعمیر کا کام بلا تعطل جاری رہ سکے اور عوام کو جلد از جلد سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر بروقت بجٹ فراہم نہ کیا گیا تو نہ صرف منصوبہ تاخیر کا شکار ہوگا بلکہ تعمیراتی لاگت میں بھی مزید اضافہ ہوسکتا ہے



