"کارونجھر کی کٹائی نامنظور” کراچی میں وکلاء مارچ، سندھ حکومت آئینی عدالت سے درخواست واپس لینے پر مجبور

کراچی/مٹھی (رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) "کارونجھر کی کٹائی نامنظور” سندھ حکومت کے خلاف کراچی میں وکلاء مارچ، پولیس کی رکاوٹیں، چکریاں، وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچ کر چارٹر آف ڈیمانڈ پیش، صوبائی وزیر سے بات چیت، وفاقی آئینی عدالت سے درخواست واپس لینے کی یقین دہانی۔
سندھ حکومت کی جانب سے کارونجھر کٹائی کے لیے وفاقی آئینی عدالت جانے کے اقدام کے خلاف کراچی میں سندھ بھر سے وکلاء کا سمندر اٹھ گیا، سندھ ہائے کورٹ سے وزیراعلیٰ ہاؤس تک مارچ کیا گیا۔
مارچ کے دوران وکلاء نے شدید نعرے بازی کی جب کہ بعض مقامات پر پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کرکے روکنے کی کوشش کی تاہم وکلاء تمام رکاوٹیں توڑ کر وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔
وکلا رہنماؤں نے بھی مختلف مقامات پر مارچ سے خطاب کیا۔ تصادم کے دوران وکلا نے پولیس سے کنٹینرز چھین کر اپنے قبضے میں لے لیے اور ان کا استعمال کرتے رہے۔
مارچ جب وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچا تو صوبائی وزیر قدرتی وسائل ناصر شاہ وہاں پہنچے اور بات چیت کی۔ اس موقع پر وکلا نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے کارونجھر کی کٹائی کے لیے وفاقی آئینی عدالت میں دائر درخواست واپس لینے کا مطالبہ کیا جسے صوبائی وزیر نے تسلیم کرتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت وفاقی آئینی عدالت میں دائر درخواست واپس لینے کے لیے تیار ہے۔
اس موقع پر وکلا برادری کا کہنا تھا کہ ہم اپنے وسائل کی حفاظت کرنا جانتے ہیں، ہمیں کسی بڑے امتحان میں نہ ڈالا جائے۔ وکلاء نے یہ وعدہ بھی کیا کہ آئندہ کسی قسم کی زیادتی ہوئی تو پوری وکلاء برادری ساتھ ہو گی۔
یاد رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے کارونجھر پہاڑ کو موروثی ورثہ قرار دیا تھا، جس کے بعد کیس سپریم کورٹ میں منتقل کردیا گیا تھا۔ کیس وفاقی آئینی عدالت میں منتقل ہوا تو تھرپارکر بار نے عدالتوں کا بائیکاٹ کرکے جدوجہد کا اعلان کیا، اور پورے سندھ نے اس کی حمایت کی، اور کراچی میں مارچ نے ایک بار پھر کارونجھر کو بچایا۔
یہ بھی یاد رہے کہ کارونجھر کا پہلا مقدمہ ایڈووکیٹ شنکر میگھواڑ نے لڑا تھا لیکن اب کارونجھر کے لیئے پورا سندھ میدان عمل کھڑا ہے۔



