لاڑکانہ میں وکلا کا مطالبات کے حق میں احتجاج

لاڑکانہ(رپورٹ: احسان جونیجو/نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے) لاڑکانہ شہر کی وسط میں گھنٹی ریلوے پھاٹک کے قریب واقع قاضی فضل الله پارک اور مولانا جان محمد عباسی پارک کے اندر عمارتوں کا تعمیراتی کام شروع کرنے اور پارک کے حصوں کو توڑنے کے خلاف وکلاء کا رات گئے دیا گیا احتجاجی دھرنا مسلسل 12گھنٹے گزرنے کے باوجود جاری ہے.وکلاء نے تعمیراتی کام کو دونوں پارکوں میں قبضہ قرار دیتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اطہر عباس سولنگی اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر جاوید بلیدی کی زیر قیادت احتجاجی دھرنا دیکر مرکزی سڑک بلاک کردی اور شدید نعرے بازی کی. وکلاء کے دھرنے میں مختلف سیاسی اور شہری تنظیموں کے کارکنان نے بھی شرکت کی. اس موقع پر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارکوں پر قبضہ کیا جا رہا ہے جس کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا، جب تک قبضے کو ختم نہیں کرایا جاتا اور ملوث لوگوں کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی جاتی، ہمارا احتجاج جاری رہے گا.

ادھر محکمہ صحت سندھ کے تحت لاڑکانہ میں زیر تعمیر 600 بیڈ اسپتال کے پروجیکٹ ڈائریکٹر نے نجی تعمیراتی کمپنی کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ پارکوں میں قائم بیچنگ پلانٹ اور دیگر تعمیراتی سامان فوری طور پر کسی دوسری مناسب جگہ منتقل کیا جائے، وکلاء اور سول سوسائٹی کے بھرپور احتجاج کے بعد سرکاری مراسلے کے مطابق ٹاؤن کمیٹی نے پہلے عارضی طور پر پارک کے استعمال کی اجازت دی تھی تاہم تعمیراتی سرگرمیوں، بھاری مشینری کی آمد و رفت اور سامان رکھنے کی وجہ سے قریبی علاقوں کے رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا ہو رہا ہے اسی وجہ سے کمپنی کو حکم دیا گیا ہے کہ بیچنگ پلانٹ، مشینری اور تمام متعلقہ سامان جلد پارک سے ہٹا دیا جائے اور سامان منتقل کرنے کے بعد پارک کو اس کی اصل حالت میں بحال کیا جائے.

دوسری جانب احتجاجی دھرنے میں موجود وکلاء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پارک پر قبضہ کرنے کی این او سی دینے والوں کے خلاف پیر کے روز عدالت میں آئینی پٹیشن دائر کی جائے گی۔

مزید خبریں

Back to top button