لاڑکانہ: پولیس حراست میں شہری علی گل کلہوڑو کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ تاحال منظرِ عام پر نہ آ سکی، ورثاء کا عدالت سے رجوع

لاڑکانہ (رپورٹ: احسان جونیجو/نمائندہ جانوڈاٹ پی کے)لاڑکانہ میں پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں شہری علی گل کلہوڑو کے قتل کے واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ تاحال جاری نہ ہو سکی، جس پر مقتول کے ورثاء مایوس ہو کر مقدمے کے اندراج کے لیے عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق 27 دسمبر کو تھانہ حیدری کی حدود میں پولیس نے شہری علی گل کلہوڑو کو مبینہ طور پر ڈاکو قرار دے کر سرِراہ گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔ واقعے کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی ہدایت پر آئی جی سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو نے تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی تھی۔

تحقیقاتی ٹیم نے لاڑکانہ پہنچ کر مقتول کے ورثاء، گرفتار پولیس اہلکار عرض محمد جتوئی سمیت دیگر افراد کے بیانات قلمبند کیے اور وائرل ویڈیو کا تکنیکی جائزہ لے کر رپورٹ تیار کی، جو آئی جی سندھ کے دفتر میں جمع کرا دی گئی۔ تاہم تاحال یہ رپورٹ نہ تو منظرِ عام پر لائی گئی ہے اور نہ ہی مقتول کے ورثاء کے مطالبے کے باوجود قتل کا مقدمہ درج کیا جا سکا ہے۔

انصاف نہ ملنے پر مقتول کے چچا زاد بھائی نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاڑکانہ کی عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ تھانہ حیدری کے پولیس اہلکاروں نے تلاشی کے دوران علی گل کلہوڑو کو بے دردی سے قتل کیا، جبکہ واقعے کے بعد شواہد چھپانے کے لیے مقتول کے خلاف مبینہ طور پر جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندان کو اپنی ایف آئی آر درج کروانے سے روکا گیا، لہٰذا عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ پولیس اہلکاروں کے خلاف علی گل کلہوڑو کے قتل کا مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا جائے تاکہ انصاف کی فراہمی ممکن ہو سکے۔

مزید خبریں

Back to top button