’پہلا سیزیرین کیسے بچائیں’چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ میں سیمینار کا انعقاد

لاڑکانہ (رپورٹ: احسان جونیجو/نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے) شھید محترمہ بینظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی کے زیر اہتمام "لوئر سیگمینٹ سیزیرین سیکشن – پہلا سیزیرین کیسے بچائیں” کے عنوان سے اہم علمی سیمینار چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ میں منعقد کیا گیا. سیمینار میں گائناکالوجی اور اوبسٹٹرکس کے ماہرین، فیکلٹی ممبران، پیرامیڈیکل اسٹاف، ایل ایچ ویز اور طلبہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر سویڈن سے آئے ہوئے معروف ماہر ڈاکٹر مارٹن ویرنبلوم اور ملک کے نامور گائناکالوجسٹ پروفیسر شیر شاہ سید نے اپنے تحقیقی لیکچرز دیے۔
ماہرین نے بتایا کہ پاکستان میں ویم کی پیچیدگیوں کی وجہ سے روزانہ تقریباً 27 خواتین اپنی جانیں کھو دیتی ہیں، یا یوں کہا جائے کہ ہر 1000 حاملہ خواتین میں سے 15 خواتین انتقال کر جاتی ہیں۔ ماہرین نے زور دیا کہ دیہی علاقوں میں غیر تربیت یافتہ دائیوں کی موجودگی اس مسئلے کا بڑا سبب ہے۔ ماہرین نے یہ بھی کہا کہ حمل کے ابتدائی دنوں سے باقاعدہ چیک اپ، بلڈ پریشر، شوگر، ہیموگلوبن اور وزن کی نگرانی اور ڈیلیوری کے دوران شواہد پر مبنی فیصلے نارمل اور محفوظ ولادت کے امکانات کو بڑھا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ماتحت اسپتالوں میں لیبر روم مینجمنٹ کو مضبوط کرنا، اسٹاف کی جدید تربیت اور خاندانوں کو آگاہ کرنا خواتین کی اموات کی شرح کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نصرت شاہ نے خطاب میں کہا کہ یونیورسٹی ہمیشہ ایسے علمی، تحقیقی اور طبی مباحثوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے تاکہ ماں اور بچے کی صحت کے لیے بہتر پالیسیاں اور حکمت عملی تیار کی جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا جب تک ہم مسائل پر بات نہیں کریں گے، ان کا حل نہیں نکل سکتا۔ پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر شاہد حسین سومرو نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا، جبکہ وائس پرنسپل ڈاکٹر فوزیہ چانڈیو نے ووٹ آف تھینکس پیش کیا۔ آخر میں مہمانوں کو اجرک اور سندھ ٹوپیوں کے ثقافتی تحائف پیش کیے گئے۔



