قتل کے مقدمے میں سزائے موت کالعدم، لاہور ہائیکورٹ نے مجرم کو ناکافی شواہد پر بری کر دیا

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے معمولی جھگڑے کے دوران شہری کے قتل کے الزام میں سزائے موت پانے والے مجرم کی اپیل منظور کرتے ہوئے سزا کالعدم قرار دے دی اور ملزم کو بری کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس فاروق حیدر اور جسٹس علی ضیاء باجوہ پر مشتمل دو رکنی بینچ نے اپیل پر فیصلہ سنایا۔ ٹرائل کورٹ نے سال 2022 میں ملزم الفت کو سزائے موت سنائی تھی، تاہم ہائیکورٹ نے چار سال بعد فیصلہ سناتے ہوئے سزا کو شواہد کی عدم دستیابی اور قانونی نقائص کے باعث ختم کر دیا۔
سماعت کے دوران ملزم کے وکیل ایڈووکیٹ چوہدری ولایت علی نے دلائل دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پراسیکیوشن اپنا کیس ثابت کرنے میں ناکام رہی۔ اس موقع پر جسٹس فاروق حیدر نے ریمارکس دیے کہ استغاثہ کے مقدمے میں متعدد سنگین خامیاں موجود ہیں اور وقوعہ کی رپورٹ میں تاخیر پر کوئی تسلی بخش وضاحت پیش نہیں کی جا سکی۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ واقعے کی ایف آئی آر دو گھنٹے کی تاخیر سے درج کی گئی۔ مزید یہ کہ پراسیکیوشن کے مطابق زخمی کو موٹر سائیکل پر ہسپتال منتقل کیا گیا، مگر نہ تو موٹر سائیکل کو شواہد کا حصہ بنایا گیا اور نہ ہی زخمی کو منتقل کرنے والے افراد کے کپڑوں کو ریکارڈ میں شامل کیا گیا۔
عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ واقعے کے تقریباً نو گھنٹے بعد پوسٹ مارٹم کیا گیا، جو پراسیکیوشن کے مؤقف کو مشکوک بناتا ہے۔ ان تمام قانونی اور تفتیشی نقائص کی بنیاد پر عدالت نے ملزم کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کر دیا۔
واضح رہے کہ ملزم کے خلاف تھانہ صدر فاروق آباد میں قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج تھا۔



