لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ: جسمانی کمزوری بھی ضمانت کی مستقل قانونی بنیاد قرار، پارکنسن کے مریض ڈاکٹر کی ضمانت منظور

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم قانونی نظیر قائم کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جسمانی کمزوری، بڑھاپا یا ایسا جسمانی عارضہ جو معمول کی زندگی متاثر کر دے، ضابطہ فوجداری کی دفعہ 497 کے تحت ضمانت کی ایک مستقل اور خودمختار قانونی بنیاد ہے۔

جسٹس محمد امجد رفیق نے 11 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے پارکنسن کے مرض میں مبتلا ڈاکٹر افتخار احمد کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کر لی۔ ملزم کے خلاف سبزہ زار تھانے لاہور میں ایک بچے کے ختنے کے دوران مبینہ طبی غفلت کا مقدمہ درج تھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ بیماری اور جسمانی کمزوری دو الگ الگ قانونی بنیادیں ہیں۔ اگر جیل کی میڈیکل رپورٹ کسی قیدی کی جسمانی کمزوری کی تصدیق کر دے تو عدالت بیماری کی شدت یا نوعیت پر غیر ضروری بحث کیے بغیر بھی ضمانت دے سکتی ہے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ جیل کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر افتخار احمد پارکنسن جیسے بتدریج بڑھنے والے مرض میں مبتلا ہیں اور چلنے پھرنے، بولنے اور روزمرہ امور انجام دینے کے لیے دوسروں کی مدد کے محتاج ہیں۔

عدالت نے آبزرویشن دی کہ اگرچہ جیل میں طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، لیکن صرف یہی حقیقت ضمانت مسترد کرنے کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ عدالت کے مطابق کمزوری کا تصور صرف علاج طلب بیماری تک محدود نہیں بلکہ ایسی جسمانی حالت بھی اس میں شامل ہے جس کے باعث قیدی جیل کی سختیوں کو عام افراد کی طرح برداشت نہ کر سکے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ جیلوں میں غیر معیاری خوراک، صفائی کی ناقص صورتحال، ہجوم اور ذہنی دباؤ جسمانی کمزوری میں مزید اضافہ کرتے ہیں، اس لیے ضمانت کے فیصلوں میں انسانی وقار، مساوات اور تناسب کے آئینی اصولوں کو مقدم رکھا جانا چاہیے۔

عدالت نے پاکستانی، برطانوی، بھارتی، امریکی اور یورپی عدالتی نظائر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں جسمانی کمزوری اور بڑھاپے کو ضمانت کے فیصلوں میں ایک اہم قانونی عنصر تسلیم کیا جاتا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے ڈاکٹر افتخار احمد کو 10 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ شواہد پر اثرانداز نہیں ہوں گے، گواہوں کو دھمکیاں نہیں دیں گے، عدالت کی اجازت کے بغیر دائرہ اختیار سے باہر نہیں جائیں گے اور اپنا پاسپورٹ عدالت میں جمع کرائیں گے۔

مزید خبریں

Back to top button