لاہور:کھلے مین ہول میں ماں بیٹی کے گرنے کے واقعہ نے حکومت، پولیس، ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے

لاہور (جانوڈاٹ پی کے)لاہور کے قلب میں واقع داتا دربار کے سامنے جاری ترقیاتی منصوبے کے دوران ایک ماں اور اس کی تین ماہ کی بیٹی کے مبینہ کھلے مین ہول میں گرنے کے واقعے نے شدید تنازع پیدا کر دیا ہے۔ ریسکیو، پولیس اور سیف سٹی کیمروں نے ابتدائی طور پر حادثے کی تصدیق کی ہے، تاہم حکومتی ترجمان اور انتظامیہ کے متضاد بیانات نے صورتحال کو مزید الجھا دیا ہے۔
واقعے کے بعد جائے حادثہ کو سبز کپڑے اور لوہے کی چادروں سے سیل کر دیا گیا۔ ریسکیو ذرائع کے مطابق بچی کی لاش ملنے کے امکانات کم ہیں، تاہم تمام ڈرینز اور ڈسپوزل اسٹیشن پر دوبارہ سرچ آپریشن جاری ہے۔ صبح کے وقت واسا اور ریسکیو کی ٹیمیں دوبارہ سرچ آپریشن میں مصروف ہیں۔
سانحے نے حکومت، پولیس، ریسکیو اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکومتی ترجمان نے ابتدائی طور پر ایک گھنٹے میں دو متضاد بیانات جاری کیے، جن میں پہلے حادثے کی اطلاع کو جھوٹ قرار دیا گیا، تاہم بعد میں پراجیکٹ ڈائریکٹر اور ڈائریکٹر ٹیپا کو معطل کر دیا گیا اور تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی، جو اپنی رپورٹ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو آج شام تک پیش کرے گی۔
مزید تحقیقات میں پتہ چلا کہ خاتون کے والد نے پولیس سے رابطہ کر کے دعویٰ کیا کہ بیٹی کو قتل کیا گیا ہے، جس پر پولیس نے خاتون کے شوہر سمیت تین افراد کو حراست میں لیا۔ دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کا کہنا ہے کہ داتا دربار کے اندر اور باہر نصب سی سی ٹی وی کیمروں نے حادثے کی تصدیق کر دی ہے اور شوہر کے بیانات درست ثابت ہوئے۔
ابتدائی ریسکیو ذرائع نے بتایا کہ جس سیوریج ہول کی نشاندہی کی گئی، وہاں انسان کا گرنا تکنیکی طور پر ناممکن ہے۔ لاہور انتظامیہ کے مطابق سیوریج لائن کا معائنہ کیا گیا، جس کے بعد معلوم ہوا کہ وہاں کوئی حادثہ پیش نہیں ہوا۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ جائے حادثہ کے ارد گرد حفاظتی انتظامات نہ ہونا اور عارضی پارکنگ اسٹینڈ کا قیام انتظامیہ کی غفلت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔



