تھرکول انتظامیہ نے جبری طور پر ملازمت ختم کی، بحال نہ کیا گیا تو خود کو آگ لگا لوں گا: بی ایم سومرو کا اعلان

تھرپارکر (رپورٹ: میندھرو کاجھروی / جانو ڈاٹ پی کے) تھرکول بلاک ٹو میں اینگرو پاور جن تھر لمیٹڈ میں آٹھ سال تک ٹاپ پروگریسو پرسن آف پلانٹ رہنے والے محمد بخش سومرو کو غیر قانونی طریقے سے ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔
لیبر قوانین، چارٹر آف ڈیمانڈ اور سپریم کورٹ کے نافذ کردہ قوانین کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں چھٹی پر گھر بھیج دیا گیا اور ان کی غیر حاضری میں بغیر کسی پوچھ گچھ، بغیر کسی وجہ اور بغیر پیشگی اطلاع کے برطرف کر دیا گیا۔
اس حوالے سے محمد بخش سومرو نے میڈیا کو بتایا کہ مجھے چھٹی پر بھیج کر بعد میں سازش کے تحت نوکری سے نکال دیا گیا۔ میں نے 8 سال تک کام کیا لیکن مجھے گریجویٹی، الاؤنس یا دیگر بقایا جات ادا نہیں کیے گئے۔
محمد بخش سومرو نے چند روز قبل سوشل میڈیا پر اعلان کیا تھا کہ اگر مجھے بحال نہ کیا گیا تو میں خود کو آگ لگا لوں گا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے ذمہ دار سی ای او اور چیئرمین اینگرو انرجی، جی ایم سائٹ ہیڈ اینگرو پاور جن تھر، میڈیا کوآرڈینیٹر اینگرو، جی ایم سی ایس آر اور تھر کے منتخب نمائندے ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنی غیر قانونی برطرفی کے خلاف ایم این اے ڈاکٹر مہیش کمار ملانی، فرحان انصاری، جنید احمد انصاری، مشتاق احمد وگھیو، سوشل میڈیا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سمیت سندھ کی شہید رہنما محترمہ بینظیر بھٹو کے مزار پر بھی فریاد کر چکا ہوں، مگر اب تک کسی نے رابطہ نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ دو سال ہو چکے ہیں، میں بے روزگار ہوں اور میں اور میرا خاندان شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ کوئی مدد نہ ملنے پر میں نے خود سوزی کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تھرکول پراجیکٹ پر غیر مقامی افراد کا قبضہ ہے جبکہ مقامی لوگ اور تھری مزدور مشکلات کا شکار ہیں۔ کھانے پینے کی سہولیات، چھٹیاں، اوور ٹائم اور دیگر فنڈز میں بھی بے ضابطگیاں کی جا رہی ہیں۔



