خیبر پختونخوا حکومت کو بڑ اجھٹکا،پولیس ایکٹ میں ترامیم مسترد
انسپکٹر جنرل پولیس کو بائی پاس کرکے فیلڈ کمانڈرز پر کنٹرول کمانڈ اسٹرکچر کو توڑ دیتا ہے

پشاور(جانو ڈاٹ پی کے)خیبرپختونخوا پولیس ایکٹ2017میں ترمیم کے خلاف کیس میں پشاور ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کی جانب سے 2024 میں کی جانے والی ترمیم کو کالعدم قرار دے دیا۔
پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے 28 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا۔ فیصلے میں تحریر کیا گیا کہ گریڈ 18 اور اس سے اوپر کے پولیس افسران کی تقرریاں وزیراعلیٰ کی منظوری سے مشروط کرنا غیر آئینی ہے جبکہ انسپکٹر جنرل پولیس سے فیلڈ کمانڈرز کی تقرری کا قانونی اختیار واپس لینا بھی غیر قانونی ہے۔
فیصلے کے مطابق یہ ترامیم پولیس کی عملی خودمختاری کو ختم کر کے اسے سیاسی بناتی ہیں۔ آئینی نظام کے تحت انتظامیہ کی نگرانی صرف پالیسی رہنمائی تک محدود ہونی چاہیے۔ روزمرہ انتظامیہ، تبادلے اور تعیناتیاں صرف آئی جی پولیس کے پاس ہونے سے کمانڈ برقرار رہتی ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ انسپکٹر جنرل پولیس کو بائی پاس کرکے فیلڈ کمانڈرز پر کنٹرول کمانڈ اسٹرکچر کو توڑ دیتا ہے۔ قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری آئی جی پولیس پر ہے اور وہ صرف قانون کے سامنے جواب دہ ہیں۔



