اگر نئے صوبے بننے سے پاکستان تقسیم نہیں ہوتا تو پھر اس عمل کو متنازع کیوں بنایا جاتا ہے؟ خالد مقبول صدیقی

کراچی(جانوڈاٹ پی کے)وفاقی وزیر تعلیم اور ایم کیو ایم پاکستان کےکنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہےکہ صوبوں کی تقسیم کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے، اگر نئے صوبے بننے سے پاکستان تقسیم نہیں ہوتا تو پھر اس عمل کو متنازع کیوں بنایا جاتا ہے۔
کراچی میں نجی یونیورسٹی کی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے خالد مقبول کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد بھی مسائل مکمل طور پر حل نہیں ہوئے،کیا گھوسٹ اسکول ختم ہوگئے؟ پنجاب اور سندھ کئی ممالک سے بڑے ہیں، ایسے میں بہتر طرز حکمرانی کے لیے انتظامی اصلاحات پر بات ہونی چاہیے۔
خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ صوبوں کی تقسیم کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے، اگر نئے صوبے بننے سے پاکستان تقسیم نہیں ہوتا تو پھر اس عمل کو متنازع کیوں بنایا جاتا ہے؟ اگر پنجاب میں مزید صوبے بنانا جائز سمجھا جاتا ہے تو کیا کراچی یا سندھ کی انتظامی تقسیم پر بات کرنا ناجائز ہے؟
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً 15 کروڑ نوجوان موجود ہیں، جنہیں ڈگریوں سے زیادہ ہنر کی ضرورت ہے، ہمارے ہمسایہ ممالک نے اپنی آبادی کو معاشی طاقت میں تبدیل کیا جب کہ ہم نے کئی مواقع خود ضائع کیے، چین کی بڑی آبادی کے باوجود وہاں مہارت اور ٹیکنالوجی پر توجہ دی جا رہی ہے۔



