تھرپارکر: کارونجھر کی لیز اور کٹائی کیخلاف بھوک ہڑتال کے تین ماہ مکمل، حکومت خاموش

تھرپارکر (رپورٹ : میندھرو کاجھروی / جانو ڈاٹ پی کے) کارونجھر کی لیز اور کٹائی کے خلاف جاری احتجاجی بھوک ہڑتال کو تین ماہ مکمل ہونے والے ہیں، تاہم حکومت کی جانب سے تاحال کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔
اس سلسلے میں بھوک ہڑتال پر بیٹھے کارونجھر سجاگ فورم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کارونجھر پہاڑ ہمارے لیے مقدس ہونے کے ساتھ قدیم ورثہ بھی ہے اور یہاں کے لوگوں اور جنگلی حیات کے تحفظ کا ذریعہ ہے۔ آج بھی کارونجھر پہاڑ میں کئی مقدس عبادت گاہیں موجود ہیں جہاں تاریخی اور مذہبی میلے منعقد ہوتے ہیں اور ہزاروں یاتری زیارت کے لیے کارونجھر کا رخ کرتے ہیں۔ کارونجھر سجاگ فورم کے رہنما اللہ رکھیو کھوسو، غلام مصطفیٰ دل، شنکر لال، نواز علی کھوسو، لال چند اور دیگر جدوجہد کرنے والے ساتھیوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری یہ احتجاجی بھوک ہڑتال تین ماہ مکمل کرنے والی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دو سے تین دن بعد یہ بھوک ہڑتال چوتھے مہینے میں داخل ہو جائے گی۔ ہماری یہ پُرامن تحریک صرف اور صرف کارونجھر کی تمام لیزوں اور سندھ حکومت کی جانب سے دائر پٹیشن کے خلاف ہے۔
انہوں نے میڈیا کے ذریعے سندھ حکومت سے اپیل کی کہ کارونجھر کی کٹائی کے حق میں دائر اپنی پٹیشن واپس لے کر کارونجھر پہاڑ کو قومی ورثہ قرار دینے کا اعلان کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ کارونجھر کے وارث سراپا احتجاج ہیں اور جب تک حکومت اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گی، یہ بھوک ہڑتال جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ کارونجھر کے باشندوں کا بچہ بچہ اس مقدس پہاڑ پر قربان ہونے کے لیے تیار ہے۔
احتجاجی بھوک ہڑتال کیمپ میں کارونجھر سجاگ فورم کے رہنماؤں اور کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی جو کارونجھر کے حق میں زوردار نعرے بازی کر رہے تھے۔



