کراچی قونصل خانہ میں امریکی فوجیوں نے فائرنگ کی تھی، برطانوی میڈیا

واشنگٹن(ویب ڈیسک) برطانوی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ امریکی میرینز نے کراچی میں قونصل خانے پر دھاوا بولنے والے مظاہرین پر فائرنگ کی تھی۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سفارتی مشن پر طاقت کے استعمال کا یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے، جو ایران کے رہنما کی ہلاکت کے بعد ملک بھر میں جاری مظاہروں کے تناظر میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، اس واقعہ میں 10 پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے تھے۔
امریکی حکام نے ابتدائی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ میرینز کی جانب سے چلائی گئی گولیاں کسی کو لگیں یا کسی کی ہلاکت کا سبب بنیں، انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ مشن کی حفاظت پر مامور دیگر افراد، جن میں نجی سکیورٹی گارڈز اور مقامی پولیس شامل ہیں، نے بھی فائرنگ کی یا نہیں۔
یہ پہلا موقع ہے جب امریکی حکام نے تصدیق کی ہے کہ مظاہرین پر فائرنگ میں میرینز شامل تھے جبکہ صوبائی حکومت کے ترجمان سکھ دیو اسرداس ہمنانی نے کہا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے فائرنگ کی، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ ان کا تعلق کس ادارے سے تھا۔
امریکی سفارتی مشنز پر روزمرہ سکیورٹی آپریشنز اکثر نجی کنٹریکٹرز اور مقامی فورسز انجام دیتی ہیں، اور اس واقعہ میں میرینز کی شمولیت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ قونصل خانے نے خطرے کو کس قدر سنجیدگی سے لیا۔
ایران کے بعد پاکستان دنیا کی دوسری بڑی شیعہ آبادی کا حامل ملک ہے، پیر کے روز ایران پر حملوں کے خلاف مظاہروں کے پھیلنے کے بعد پاکستان نے ملک بھر میں بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی، جبکہ مختلف علاقوں میں 26 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں بظاہر کم از کم ایک مظاہر کو قونصل خانے کی جانب ہتھیار سے فائر کرتے ہوئے دکھایا گیا، جبکہ گولیوں کی آوازوں کے دوران زخمی مظاہرین کو بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔
کراچی پولیس کے ایک اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ فائرنگ قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے کی گئی۔
اس حوالے سے سوالات کے جواب کے لیے امریکی میرینز نے امریکی فوج سے رجوع کا کہا، جس نے مزید سوالات کے لیے محکمہ خارجہ کا حوالہ دیا، تاہم محکمہ خارجہ نے رائٹرز کی تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔
شیعہ برادری کے رہنماؤں نے ملک گیر پابندی کے باوجود لاہور اور کراچی میں مزید احتجاج کی کال دی ہے، پاکستان میں امریکی سفارت خانہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں واقع ہے، جبکہ پشاور اور لاہور میں مزید دو قونصل خانے موجود ہیں۔
کراچی میں امریکی قونصل خانے جانے والی سڑکیں بند کر دی گئیں اور علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔ اسی طرح کے حفاظتی اقدامات لاہور اور اسلام آباد میں امریکی مشنز کے اطراف بھی کیے گئے۔



