اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)سپریم کورٹ کے پانچ رکنی آئینی بینچ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کو کام سے روکنے کا اسلام آباد ہائیکورٹ کا عبوری حکم نامہ کالعدم قرار دے دیا۔ جبکہ دوسری طرف سندھ ہائیکورٹ نے جسٹس جہانگیری کی ایل ایل بی کی ڈگری منسوخی کے کراچی یونیورسٹی کے فیصلے کو معطل کرنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیئے ہیں اور پانچ اکتوبر کو جواب طلب کرلیا ہے۔
سپریم کورٹ آئینی بنچ کے سربراہ جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں پانچ رکنی بنچ نے جسٹس طارق جہانگیری کی اپیل پر سماعت کی۔
دوران سماعت، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر آئے اور کہا کہ ایک جج کو عبوری آرڈر کے ذریعے جوڈیشل ورک سے نہیں روکا جا سکتا۔
جسٹس امین الدین خان نے میاں داؤد سے استفسار کیا کہ فریق میاں داؤد آپ کی کیا رائے ہے؟ میاں داؤد نے کہا میری بھی یہی رائے ہے کہ ایک جج کو جوڈیشل ورک سے نہیں روکا جا سکتا۔
جسٹس جہانگیری کیخلاف درخواست گزار میاں دائود ایڈووکیٹ اور اٹارنی جنرل نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کی مخالف کی
سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے کہ ایک جج کو عبوری حکم کے ذریعے جوڈیشل ورک سے ہائیکورٹ نہیں روک سکتی۔
منیر اے ملک نے کہا کہ میں آئینی بینچ کے گزشتہ عدالتی حکم نامہ کا حوالہ دینا چاہتا ہوں، لکھا گیا رٹ قابل سماعت ہے، میری رائے میں ایک جج کے خلاف کارروائی سپریم جوڈیشل کونسل ہی کر سکتا ہے، ملک اسد علی کیس میں یہ نہیں کہا گیا کہ ہائیکورٹ میں رٹ قابل سماعت ہے، یہ تاثر نہیں جانا چاہیے کہ ہم نے تسلیم کیا کہ ہائیکورٹ میں رٹ ہو سکتی ہے۔
سپریم جوڈیشل کونسل سے ہی ایک جج کو ہٹایا جا سکتا ہے
جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ ہم نے آرڈر میں صرف وہ لکھا ہے جو ملک اسد علی کیس کی لینگویج ہے۔ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ہم نے ایک فیصلے میں یہ ہولڈ کیا ہوا کہ سپریم جوڈیشل کونسل سے ہی ایک جج کو ہٹایا جا سکتا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ہم رٹ آف کو ورنٹو کے قابل سماعت ہونے کے سوال کو چھو نہیں رہے، ہم نے کہیں پر بھی یہ نہیں کہا کہ ہائیکورٹ میں رٹ قابل سماعت ہے، ہائیکورٹ میں دائر کی گئی رٹ قابل سماعت ہے یا نہیں یہ اسی ہائیکورٹ نے ہی طے کرنا ہے۔
سوال صرف یہ ہے کہ عبوری حکم کے ذریعے جج کو کام سے روکا جا سکتا تھا یا نہیں
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس میں کہا کہ ابھی تو اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر التوا رٹ پر اعتراضات برقرار ہیں، ہم اس سوال کی طرف نہیں جائیں گے کہ جج کے خلاف رٹ ہو سکتی ہے یا نہیں، ہمارے سامنے سوال صرف یہ ہے کہ عبوری حکم کے ذریعے جج کو کام سے روکا جا سکتا تھا یا نہیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ ہائیکورٹ میں دائر کی گئی رٹ میں یہ کہا گیا ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججز سروس آف پاکستان میں آتے ہیں، ججز پبلک آفس ہولڈر نہیں ہوتے، یہ وہ ساری باتیں ہیں ہائیکورٹ میں جب میرٹ پر کیس چلے گا تو زیر بحث آ سکتی ہیں، ہم موجودہ کیس میں جان بوجھ کر میرٹ پر نہیں جانا چاہتے۔
اٹارنی جزل منصور اعوان نے کہا کہ جج کو عبوری حکم نامے کے ذریعے جوڈیشل ورک سے نہیں روکا جا سکتا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ وارنٹو کی سماعت میں پہلے اعتراضات کا فیصلہ کرے
سپریم کورٹ کے حکم نامے کے مطاق اٹارنی جنرل اور فریقین کے دلائل کے مطابق جج کو کام سے نہیں روکا جا سکتا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست پر اعتراضات ہیں۔ درخواست گزار میاں داؤد نے کہا جج کو کام سے روکنے کے آرڈر کا دفاع نہیں ہو سکتا۔
عدالت عظمیٰ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسٹس طارق جہانگیری کا کام سے روکنے کا آرڈر کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے جسٹس طارق جہانگیری کے ہائیکورٹ آرڈر کے خلاف اپیل منظور کرلی۔
سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ وارنٹو کی سماعت میں پہلے اعتراضات کا فیصلہ کرے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز سماعت کے بعد سپریم کورٹ سے روانہ ہوگئے۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری نے عہدے پر بحالی کے بعد اپنی عدالت میں کیسز کی سماعت کا آغاز کر دیا۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری کی عدالت کے باہر نوٹس بھی آویزاں کر دیا گیا۔
جسٹس طارق محمود جہانگیری سنگل بینچ میں کیسوں کی سماعت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز کا ڈویژن بینچ بھی آج دستیاب ہے۔
سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے گزشتہ روز جسٹس طارق محمود جہانگیری کو عہدے پر بحال کیا تھا۔
سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس جہانگیری کی درخواست پر سماعت
علاوہ ازیں دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ میں جسٹس اقبال کلہوڑو پر مشتمل سنگل بنچ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کی منسوخی سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔
بیرسٹر صلاح الدین نے مؤقف اختیار کیا کہ جامعہ کراچی کے سنڈیکیٹ اور ان فیئر مینز کمیٹی کا 25 ستمبر کا فیصلہ غیر قانونی ہے، یونیورسٹی کو ڈگری منسوخ کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے کم از کم چار فیصلے موجود ہیں کہ جامعات نوٹس دیئے بغیر ڈگری منسوخ نہیں کرسکتیں۔
سماعت کے دوران جسٹس اقبال کلہوڑو نے استفسار کیا کہ یہ کیس ہمارے بنچ میں کیوں لگا ہے؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ جامعات سے متعلق کیسز اسی بنچ کے سامنے مقرر ہوتے ہیں۔
جسٹس کلہوڑو نے مزید پوچھا کہ کیا سپریم کورٹ میں بھی اسی نوعیت کی درخواست زیرِ سماعت ہے؟ جس پر بتایا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے کام سے روکنے کے معاملے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔
ڈگری منسوخ فیصلہ معطل کرنے کی استدعا مسترد، پہلے جواب آنے دیں پھر دیکھتے ہیں
جسٹس جہانگیری کے وکیل نے استدعا کی کہ ڈگری منسوخ کے فیصلے کو معطل کرکے عبوری ریلیف دیا جائے۔ تاہم عدالت نے کہا کہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہیں اور جواب آنے دیا جائے جس کے بعد مزید کیس کو سنا جائے گا، بعد ازاں سندھ ہائی کورٹ نے جسٹس طارق محمود جہانگیری کی ڈگری کی منسوخی سے متعلق درخواست پر سماعت 5 اکتوبر تک ملتوی کردی۔
Back to top button