میرپورخاص،جھڈو میں لڑکی کی ہلاکت پر ورثا کا قتل اور زیادتی کا الزام، مقدمہ درج نہ ہونے پر احتجاج

میرپورخاص (شاھدمیمن) جھڈو میں مبینہ طور پر قتل ہونے والی لڑکی کا معاملہ، والد کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا، پولیس مقدمہ درج کرنے اور ملزمان کو گرفتار کرنے کو تیار نہیں تفصیلات کے مطابق چند روز قبل جھڈو میں مبینہ طور پر قتل ہونے والی لڑکی کے والد امام بخش نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کی بیٹی کو سکندر اور زاہد کھوسو نامی ملزمان نے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا اور بعد ازاں خودکشی کا رنگ دینے کیلئے نعش کو درخت پر لٹکا دیا ان کا کہنا تھا کہ محلے کی خواتین جنہوں نے ان کی بیٹی کو دفنانے سے پہلے غسل دیا تھا انہوں نے بھی بتایا ہے کہ خاتون کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے انہوں نے کہا کہ پولیس نے ابھی تک واقعہ کا مقدمہ درج نہیں کیا اور نہ ہی ملزمان کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے ان کا کہنا تھا کہ جب بیٹی کے قتل کے خلاف احتجاج کیا تو جھڈو کے ایس ایچ او نے انہیں مقدمہ درج کرنے کی یقین دہانی کرائی اور بعد میں اس نے کوئی مقدمہ درج نہیں کیا انہوں نے کہا کہ ملزمان بااثر لوگ ہیں جنہوں نے میڈیکل رپورٹ میں دم گھٹنے یا خودکشی کی رپورٹ دی ہے اور ہم اس میڈیکل رپورٹ کو قبول نہیں کرتے اس موقع پر مقتولہ کی بھابھی امیر زادی نے بتایا کہ ملزمان سکندر اور زاہد کھوسو پہلے بھی انہیں بلیک میل کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ان کے پاس ہماری تصاویر اور ویڈیوز ہیں جنہیں وہ سوشل میڈیا پر وائرل کر دیں گے انہوں نے بتایا کہ وقوعہ کے روز ملزمان نے انہیں بلایا جہاں انہوں نے مسمات خاتون کے ساتھ زیادتی کی اور بعد ازاں اسے قتل کر کے نعش درخت سے لٹکا دی انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ، وزیر داخلہ، آئی جی سندھ، ڈی آئی جی میرپورخاص اور ایس ایس پی سے مطالبہ کیا ہے کہ قتل کرنے بعد نعش درخت سے لٹکانے کے معاملے کی تحقیقات کی جائیں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button