ارشد شریف قتل کیس جلد منطقی انجام تک پہنچانے کا عندیہ، وفاقی آئینی عدالت کا سست تفتیش پر اظہارِ تشویش

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) وفاقی آئینی عدالت نے نامور پاکستانی صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف کے قتل کیس کو جلد نمٹانے کا عندیہ دیتے ہوئے تفتیشی عمل میں سست روی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ عدالت اس معاملے پر مناسب حکم جاری کرے گی، تاہم یہ حقیقت ہے کہ تفتیش کا عمل غیر معمولی طور پر سست رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ عدالت کسی پر الزام عائد نہیں کرنا چاہتی بلکہ شفاف تفتیش کیلئے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔

سماعت کے دوران ارشد شریف کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ازخود نوٹس کی بنیاد پر ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تھا اور تاحال تفتیش کا عمل جاری ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کینیا میں اب تک کیا عملی پیش رفت ہوئی ہے، جس پر وکیل نے بتایا کہ کینیا میں مقدمہ دائر کیا گیا اور فیصلے پاکستان کے مؤقف کے حق میں آئے، عدالت سے واقعے کو حادثہ کے بجائے قتل قرار دینے کی درخواست بھی کی گئی تھی، تاہم حکومت اور دیگر اداروں کے مؤقف میں اختلاف پایا جاتا ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ پہلے ہی جمع کروائی جا چکی ہے، ابتدائی طور پر کینیا حکومت نے تعاون سے انکار کیا تھا، تاہم گزشتہ سال ستمبر میں پاکستان اور کینیا کے درمیان میمورنڈم آف ایگریمنٹ طے پایا، جس کے بعد اب مزید تفتیش کیلئے کینیا حکومت کی اجازت سے پاکستانی ٹیم کو جائے وقوعہ پر بھیجا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر کینیائی حکام شواہد فراہم کریں گے۔ اس موقع پر جسٹس عامر فاروق نے عمران فاروق قتل کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں بھی پاکستان اور برطانیہ کی پولیس نے باہمی تعاون سے تفتیش مکمل کی تھی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ عمران فاروق اور ارشد شریف قتل کیس کی نوعیت مختلف ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ارشد شریف قتل کیس میں چالان جمع کروایا جا چکا ہے اور دو ملزمان نامزد ہیں جو اس وقت کینیا میں موجود ہیں، جن کی گرفتاری صرف انٹرپول کے ذریعے ممکن ہے۔

عدالت کو یہ بھی آگاہ کیا گیا کہ وزیر اعظم نے خود کینیا کے صدر سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے اور حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ تفتیش جلد مکمل ہو تاکہ عدالتی کارروائی کو آگے بڑھایا جا سکے۔

مزید خبریں

Back to top button