تھر کول میں مقامی افراد کو روزگار دیا جائے،پانی اور صحت کے سنگین مسائل ہیں،مولانا عبدالغفور حیدری

تھرپارکر(رپورٹ:میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی جنرل سیکریٹری اور سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا ہے کہ پاکستان کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر قائم ہوا، مگر بدقسمتی سے قیامِ پاکستان کے روزِ اول سے آج تک ایسے حکمران مسلط رہے جن کے اقدامات اسلام اور کلمے کے منافی رہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار مٹھی تعلقہ کے گاؤں روہیڑو میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ تھرپارکر شدید پانی کی قلت کا شکار ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ یہاں کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی سہولت فراہم کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تھر کول منصوبے میں مقامی باشندوں کو روزگار دیا جائے اور تھر کے دیہات کو ماڈل ولیجز بنایا جائے جہاں اسکول، اسپتال اور دیگر بنیادی سہولیات میسر ہوں۔

انہوں نے کہا کہ تھرپارکر میں خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے واقعات پر حکومت کو سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے اور یہ جانچنا چاہیے کہ آیا یہ واقعات بے روزگاری یا کسی اور وجہ سے ہو رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ تھرپارکر میں صاف پینے کے پانی کی شدید کمی ہے جس کے باعث عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ تھر کے کوئلے اور سونے جیسے قدرتی وسائل سے مقامی لوگوں کو روزگار دینا ان کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف کے ہمراہ تھر کا دورہ کر چکے ہیں اور اس موقع پر کارونجھر پہاڑ کے حوالے سے بات کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ کارونجھر پہاڑ تھرپارکر کے عوام کی ملکیت ہے، اسے لیز پر دینا حکمرانوں کی نااہلی کا ثبوت ہے، لہٰذا کسی بھی صورت کارونجھر کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ تھرپارکر کے اسپتالوں میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنایا جائے تاکہ غریب عوام کو بروقت اور معیاری علاج میسر آ سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ تھرپارکر کے مسائل، جن میں پانی، صحت، بجلی، سڑکیں اور دیگر بنیادی سہولیات شامل ہیں، یہ سب یہاں کے عوام کے جائز حقوق ہیں۔ انہوں نے چھور سے کوئلے تک مجوزہ ریلوے منصوبے میں بھی مقامی افراد کو روزگار دینے کا مطالبہ کیا۔

مولانا عبدالغفور حیدری نے سندھ میں بڑھتی ہوئی بدامنی، ڈکیتیوں، چوری، قتل و غارت اور مہنگائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی کے باعث غریب طبقہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔ سندھ جو ہمیشہ ایک پُرامن خطہ رہا ہے، وہاں حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ آخر میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سندھ میں امن و امان بحال کیا جائے اور تھرپارکر کے عوام کو ان کے جائز اور بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔

اس موقع پر صوبائی امیر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے وسائل اور جزیروں کو بیچ کر سندھ کو لوٹنے والوں سے حساب لیا جائے گا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تھر کے عوام کو آٹا، رہائش اور دیگر تمام بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔

یہ جلسہ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے زیرِ اہتمام گاؤں روہیڑو ساند میں منعقد ہونے والی عظیم الشان “اسلام زندہ باد کانفرنس اور دستارِ فضیلت” کے موقع پر ہوا، جس سے مولانا محمد صالح الحداد، مولانا عبدالواحد فاروقی، مولانا محمد عیسیٰ سموں، مولانا عزیز اللہ ساند، مولانا محمد اسلم ساند سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

مزید خبریں

Back to top button