جوڈیشل کمپلیکس وزیرآباد میں قیدیوں کے اہلخانہ سے ملاقات کے نام پر مبینہ رشوت وصولی کا انکشاف

وزیرآباد(نامہ نگار) جوڈیشل کمپلیکس وزیرآباد میں گرفتار ملزمان کو ججز کے روبرو پیش کرنے کے لیے لائے جانے کے دوران اہلخانہ سے ملاقات کے نام پر مبینہ طور پر نذرانے/رشوت وصول کیے جانے کا انکشاف ، ذرائع کے مطابق عدالتوں میں ریمانڈ یا جیل سے پیشی کے لیے لائے جانے والے وہ ملزمان جن کے کیسز زیرِ سماعت ہیں، انہیں بخشی خانہ (عارضی حوالات) میں رکھا جاتا ہے، جہاں اہلخانہ سے ملاقات کے لیے مبینہ طور پر رقم طلب کی جاتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بخشی خانہ میں موجود بعض منتظمین و ذمہ داران کی جانب سے قیدیوں کے اہلخانہ سے ملاقات کی اجازت دینے کے عوض مبینہ طور پر نذرانہ طلب کیا جاتا ہے۔ جو اہلخانہ یہ رقم ادا نہیں کر پاتے، انہیں اپنے پیاروں سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، جس کے باعث قیدیوں اور ان کے لواحقین کو شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔متاثرہ شہریوں کے مطابق عدالت میں پیشی کے دن قیدیوں کے اہلخانہ دور دراز علاقوں سے آتے ہیں تاکہ مختصر ملاقات کے ذریعے اپنے عزیز کی خیریت معلوم کر سکیں، تاہم بخشی خانہ میں مبینہ رشوت طلبی کے باعث انہیں مایوس لوٹنا پڑتا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بخشی خانہ کے منتظمین کی جانب سے نذر وصولی کی باتیں اب زبان زدِ عام ہو چکی ہیں، مگر تاحال اس حوالے سے کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
قانونی حلقوں اور شہریوں نے اس صورتحال کو نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ملزمان تاحال زیرِ سماعت ہوتے ہیں اور قانون انہیں اپنے اہلخانہ سے ملاقات کا بنیادی حق دیتا ہے، جسے مبینہ طور پر پیسے کے عوض محدود کرنا سراسر ناانصافی ہے۔شہریوں، سماجی حلقوں اور لواحقین نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، بخشی خانہ میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی کی شفاف انکوائری کروائی جائے اور ملوث ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ آئندہ کسی شہری کو اس طرح کی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔



