صحافی کے قتل کیس میں بڑی پیشرفت: پولیس دباؤ پر دو مرکزی ملزمان نے خود گرفتاری دے دی

ڈہرکی (وجے کمار چاولہ، نمائندہ جانوڈاٹ پی کے)سکھر رینج پولیس، سندھ رینجرز اور وفاقی سول انٹیلیجنس ایجنسی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے صحافی محمد بچل گھنیو کے قتل میں ملوث دو مرکزی ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ پولیس دباؤ اور ٹارگیٹڈ آپریشن کے باعث دونوں ملزمان نے خود کو گھوٹکی پولیس کے حوالے کیا۔
تفصیلات کے مطابق اوباڑو میں نجی ٹی وی چینل سے وابستہ صحافی محمد بچل گھنیو کو ڈیڑھ سال قبل مسلح افراد نے بے دردی سے قتل کر دیا تھا۔ اس سنگین مقدمے میں نامزد دو مرکزی ملزمان غلام حسین ولد جام گھنیو اور قدیر ولد خان محمد گھنیو نے جاری پولیس آپریشن اور دباؤ کے بعد گرفتاری پیش کی۔
ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے ڈی ایس پی آفس اوباڑو میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ صحافی کے قتل کیس میں مجموعی طور پر سات ملزمان نامزد ہیں، جن میں سے چار کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
ایس ایس پی گھوٹکی کا کہنا تھا کہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے پولیس ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور صحافی برادری کو مکمل سیکیورٹی فراہم کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملزمان چاہے کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں، قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈاکوؤں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام ملزمان گرفتار یا سرنڈر نہیں کر لیتے، اور صحافی محمد بچل گھنیو کے قتل میں ملوث تمام کرداروں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔



