ماتلی،2013ء میں مستقل کرنے کا بل منظور ہونے کے باوجود ضلع بدین کے محکمہ فشریز کے درجنوں ملازمین تاحال بحالی سے محروم

ماتلی (ذیشان احمد گدی) سندھ اسمبلی سے 2013ء میں ایک لاکھ سے زائد ملازمین کو مستقل کرنے کا بل منظور ہونے کے باوجود ضلع بدین کے محکمہ فشریز کے درجنوں ملازمین تاحال بحالی سے محروم ہیں۔ اس بات کا انکشاف ضلع بدین کے رہائشی اختر علی رند نے اپنے معصوم بیٹے کے ہمراہ ماتلی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 2009ء میں محکمہ فشریز میں 104 ملازمین کو نچلی سطح کی آسامیوں پر بھرتی کیا گیا تھا، تاہم 2013ء میں ان کا کنٹریکٹ ختم کر کے انہیں ملازمتوں سے فارغ کر دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ بل کا فائدہ زیادہ تر بااثر اور من پسند افراد کو دیا گیا جبکہ مستحق ملازمین کو نظر انداز کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ ملازمین نے انصاف کے حصول کے لیے عدالت سے رجوع بھی کیا۔ اختر علی رند کے مطابق سکھر اور کراچی کے برطرف ملازمین کو بحال کر دیا گیا ہے، تاہم ضلع بدین کے ملازمین تاحال بحالی سے محروم ہیں۔ انہوں نے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ اور سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ ضلع بدین کے متاثرہ ملازمین کو بھی فوری طور پر بحال کیا جائے۔



