یوم عاشور ہمیں صبر، برداشت اور حق پر قائم رہنے کا درس دیتے ہیں،ڈپٹی کمشنر تھرپارکر عبدالحلیم جاگیرانی

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)ڈپٹی کمشنر تھرپارکر عبدالحلیم جاگیرانی نے کہا ہے کہ یوم عاشور ہمیں صبر، برداشت اور حق پر قائم رہنے کا درس دیتے ہیں، جبکہ ہمارا دین اسلام بھی ہر مذہب اور مسلک کے احترام کی تعلیم دیتا ہے۔ وہ آج اپنے دفتر میں محرم الحرام 1448 ہجری کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ محکموں کے افسران کو ہدایت کی کہ محرم الحرام کے تقدس کو برقرار رکھتے ہوئے عاشورہ کے ایام میں ضلع بھر میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہروں، سڑکوں اور گلیوں کی صفائی ستھرائی کو یقینی بنایا جائے، جبکہ ماتمی جلوسوں کی گذرگاہوں سے گندے پانی کی نکاسی، خصوصی لائٹنگ کے انتظامات، صاف پینے کے پانی کی فراہمی، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی مرمت اور دیگر تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ عوام بالخصوص عزاداروں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے محکمہ صحت کے افسران کو ہدایت کی کہ محرم کے دوران ضلع کی تمام سرکاری اسپتالوں کو ہائی الرٹ رکھا جائے اور مجالس کے مقامات اور ماتمی جلوسوں کے ساتھ تمام طبی سہولیات سے آراستہ ایمبولینسوں کی موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔
ڈپٹی کمشنر نے حیسکو حکام کو ہدایت کی کہ محرم کے دوران رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ نہ کی جائے اور اگر کہیں تکنیکی خرابی پیش آئے تو وہاں اسٹینڈ بائی جنریٹرز کے ذریعے بجلی کی فراہمی جاری رکھی جائے۔
انہوں نے پولیس حکام کو ہدایت کی کہ ماتمی جلوسوں، مجالس، امام بارگاہوں اور دیگر مذہبی مقامات کی سخت نگرانی کرتے ہوئے ان کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام سے اپیل کی کہ محرم الحرام کے مقدس ایام میں اشتعال انگیز نعروں اور تقاریر سے گریز کیا جائے اور اتحاد، رواداری، بھائی چارگی کی فضا کو فروغ دیا جائے۔ اس موقع پر ایس ایس پی تھرپارکر عارف عزیز نے کہا کہ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ضلع میں مجموعی طور پر 106 امام بارگاہیں موجود ہیں جہاں 172 مجالس، 170 ماتمی جلوس، 80 قافلے اور 7 بڑے پڑ منعقد ہوں گے۔ ان تمام سرگرمیوں کی سکیورٹی کے لیے فول پروف سکیورٹی پلان تیار کیا گیا ہے، جس کے تحت پولیس کے ساتھ پاک فوج اور رینجرز کے اہلکار بھی تعینات کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مؤثر انٹیلی جنس نیٹ ورک کے ذریعے نہ صرف ماتمی جلوسوں، مجالس اور دیگر مذہبی اجتماعات کی سخت نگرانی کی جائے گی بلکہ سوشل میڈیا پر بھی کڑی نظر رکھی جائے گی۔ اشتعال انگیز اور نفرت آمیز مواد اپ لوڈ یا شیئر کرنے والوں کو فوری طور پر ٹریس کرکے ان کے خلاف سخت قانونی کہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اجلاس میں مختلف محکموں کے افسران نے اپنے تیار کردہ کانٹیجنسی پلانز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ بھی پیش کی۔ اجلاس میں پاک فوج ۔ پولیس، رینجرز، ضلع کے اسسٹنٹ کمشنرز، ٹی ایم اوز اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔



