تل ابیب(جانوڈاٹ پی کے)مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے کیونکہ اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں کم از کم مزید تین ہفتوں تک جاری رکھنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے ایران کے مختلف مقامات، بشمول فوجی اور اسٹریٹجک تنصیبات، پر فضائی حملے کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی ممالک کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ایرانی ڈرون حملوں کے نتیجے میں دبئی انٹر نیشنل ائیر پورٹ پر ایندھن کے ٹینک میں آگ لگ گئی جس کے باعث کچھ وقت کے لیے پروازوں کو معطل کرنا پڑا۔
اسی دوران ایک اور ڈرون حملہ متحدہ عرب امارات کی اہم تیل تنصیب کے قریب بھی کیا گیا جس سے علاقے میں آگ بھڑک اٹھی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی۔ ان حملوں نے خطے میں سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری اس تنازع نے عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کر دی ہے، کیونکہ اس کے اثرات تیل کی قیمتوں، فضائی سفر اور خلیج کے اہم تجارتی راستوں پر پڑ رہے ہیں۔
اس صورتحال کے باعث پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور عالمی برادری خطے میں مزید بڑے تصادم کے خدشات کا اظہار کر رہی ہے۔