مذہبی ٹچ یا سیاسی جنازہ: ٹرمپ، نتن یاہو اور بھارت کی مشترکہ شامت

تحریرـ نہال معظم
واشنگٹن کے ایوانِ اقتدار میں اس وقت سراسیمگی کا عالم ہے، کیونکہ امریکی فوج کے اندر بغاوت کے آثار نمایاں ہو چکے ہیں۔ حال ہی میں ایک امریکی فوجی کی جنگ سے انکار کی وائرل ویڈیو نے ثابت کر دیا ہے کہ سپاہیوں کا مورال ٹوٹ چکا ہے اور وہ ‘Operation Epic Fury’ جیسے غیر منصفانہ مشنز کا حصہ بننے سے صاف انکار کر رہے ہیں۔ جب فوجیں میدانِ جنگ سے بدکنے لگیں اور سپاہی اپنے کمانڈروں کے احکامات کو مسترد کر کے ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے لگیں، تو سمجھ لیجیے کہ سلطنت کی بنیادیں ہل چکی ہیں۔ اپنی گرتی ہوئی عسکری ساکھ کو بچانے کے لیے ٹرمپ اب فوجی نظم و ضبط کے بجائے مذہب کا سہارا لے رہے ہیں۔
ٹرمپ دراصل اس فساد کو "مذہبی جہاد” (Religious Crusade) کا رنگ دے کر فوجیوں کے ضمیر پر پڑنے والے بوجھ کو ہلکا کرنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ سوال اٹھانے کے بجائے اطاعت کو "ثواب” سمجھ کر انجام دیں۔ یہ مذہبی ڈھونگ صرف فوجیوں کو گمراہ کرنے کے لیے نہیں، بلکہ ٹرمپ کی اپنی ذات کو بچانے کا ایک آخری ہتھیار بھی ہے۔ ‘ایپسٹین فائلز’ کے انکشافات نے ان کے کالے کرتوتوں کی ایسی پرتیں کھول دی ہیں، جن میں ایک نابالغ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی اور تشدد جیسے سنگین الزامات شامل ہیں۔ اپنی اس مجرمانہ اور داغدار ساکھ کو چھپانے کے لیے وہ اوول آفس میں دعاؤں کا تماشا رچا رہے ہیں، جیسے دعائیں مانگ کر وہ ایران کے میزائلوں کا رخ موڑ سکیں گے۔اوول آفس میں مذہبی رہنماؤں کو بٹھا کر ان کا دعا کرنا کوئی روحانی منظر نہیں، بلکہ کسی بادشاہ کے آخری دنوں کا ایک سیاسی تماشا ہے۔
یورپی یونین ٹرمپ کی پالیسیوں سے مکمل طور پر بیزار ہو چکی ہے، اور امریکی چھتری تلے خود کو محفوظ سمجھنے والے اتحادی اب کنارہ کشی اختیار کر رہے ہیں۔ ادھر نتن یاہو، جو کبھی خطے کا "سیکیورٹی ماسٹر مائنڈ” کہلاتا تھا، اس کی حالت یہ ہے کہ اسے اپنی حکومت اور جان کے لالے پڑے ہیں؛ اس کی جارحیت نے اسرائیل کو ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ بھارت کی شامت بھی قریب ہے، جس نے اندھی تقلید میں اس ڈوبتی ہوئی امریکی کشتی میں سواری کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ڈوبتی کشتی کے ساتھ جو بھی جڑا ہے، وہ اب سمندر کی تہہ میں جانے کو تیار ہے۔
ٹرمپ کی یہ بونگیاں اس بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہیں جو ایک مجرم حکمران کو اپنے سیاسی و اخلاقی زوال کے قریب دیکھ کر ہوتی ہے۔ فوجیوں کا انکار، اخلاقی کرتوتوں کا پردہ چاک ہونا، اتحادیوں کا ساتھ چھوڑنا اور میدانِ جنگ میں ایران کے غیر متوقع جوابی وار،یہ سب مل کر ٹرمپ کے زوال کی ایسی داستان لکھ رہے ہیں، جسے اب کوئی بھی مذہبی ڈرامہ یا دعائیہ تماشا نہیں بدل سکتا۔ یہ اوول آفس کی دعائیں نہیں، یہ ان کے سیاسی جنازے کی تیاری ہے۔



