اسلام آباد سخت سیکیورٹی حصار میں، امریکی و ایرانی وفود کی آمد قریب

اسلام آباد: خصوصی رپورٹ (جانو ڈاٹ پی کے)پاکستان کا دارالحکومت اسلام آباد اس وقت عالمی سیاست کا مرکز بن چکا ہے جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو مستقل معاہدے میں بدلنے کے لیے تاریخی مذاکرات کا آغاز ہو رہا ہے۔ ان مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور اسٹیورڈ کوف پر مشتمل اعلیٰ سطح کا وفد اسلام آباد پہنچ رہا ہے، جبکہ دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف ایرانی وفد کی قیادت کریں گے۔ اس اہم موقع پر اسلام آباد میں سیکورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، شہر کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور فضائی نگرانی کے لیے لڑاکا طیارے اور ہیلی کاپٹرز گشت کر رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف، جو اس وقت عالمی سطح پر ایک مصالحت کار کے طور پر ابھرے ہیں، نے مذاکراتی مقام کا خود دورہ کیا جبکہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بھی ان سے ملاقات کر کے سیکورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا۔ رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس وقت شدید فرسٹریشن کا شکار ہیں اور انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹرتھ سوشل’ پر نیٹو اتحادیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مشکل وقت میں کسی نے امریکہ کا ساتھ نہیں دیا۔ ٹرمپ نے اپنی شرائط کو بھی محدود کر دیا ہے اور اب ان کا سارا زور صرف ایران کے جوہری پروگرام اور ابنائے ہرمز کو کھلوانے پر ہے۔ دوسری جانب ایک بڑی پیشرفت میں سعودی اور ایرانی وزرائے خارجہ کے درمیان بھی رابطہ ہوا ہے جس میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ شہباز شریف کو اج کے دن فرانسیسی صدر، برطانوی وزیراعظم اور بحرین کے بادشاہ سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے فون کر کے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہا ہے۔ اگرچہ اسرائیل اور بھارت جیسے ممالک ان مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، تاہم عالمی طاقتوں کے اعتماد کے باعث اسلام آباد مذاکرات سے مثبت نتائج کی امید کی جا رہی ہے۔
امداد سومرو کی اس خصوصی رپورٹ کا مکمل وی لاگ دیکھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:




