اسرائیل کا صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا صومالیہ کی خودمختاری پر براہ راست حملہ ہے، اسحاق ڈار

جدہ (جانوڈاٹ پی کے) نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا اور وہاں اپنے وزیر خارجہ کو بھیجنا صومالیہ کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں پر براہ راست حملہ ہے۔ پاکستان صومالیہ کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام اور بھرپور حمایت کرتا ہے۔
اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی وزرائے خارجہ کونسل کے غیر معمولی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے اسرائیل کے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے اور اسرائیلی وزیر خارجہ کے دورے کو غیر قانونی، غیر حقیقی اور قابلِ مذمت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ریاست کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصول ہیں، جنہیں کوئی بیرونی ریاست یا ادارہ قانونی یا اخلاقی طور پر تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ ایسے کسی بھی بیان یا اقدام کو نہ قانونی حیثیت حاصل ہوگی اور نہ ہی کوئی سیاسی اثر مرتب ہوگا۔
اسحاق ڈار نے خبردار کیا کہ اسرائیلی اقدام ہارن آف افریقہ اور بحیرہ احمر کے خطے میں امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف عالمی و علاقائی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے او آئی سی ممالک کے ساتھ مل کر اسرائیلی اقدام کو مشترکہ بیان میں مسترد کیا ہے اور اقوام متحدہ میں بھی اس کی مذمت کی گئی ہے۔
انہوں نے صومالی عوام اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ صومالیہ نے قومی مفاہمت، آئینی اصلاحات، ریاستی اداروں کی مضبوطی اور اقتصادی شفافیت کے شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ عوامی ووٹ کی بنیاد پر انتخابات ہی صومالیہ کی ترقی اور استحکام کی علامت ہیں، جبکہ کسی بھی قسم کی جبری بے دخلی بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔
اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں فلسطین کے مسئلے پر بھی پاکستان کے اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے غزہ میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور فلسطینی حقوق کے تحفظ کے لیے او آئی سی اور عرب ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھنے پر زور دیا۔



