جنگ بندی کی شرائط واضح اور دو ٹوک ہیں،حملے اورمذاکرات ایکساتھ نہیں چل سکتے،ایرانی وزیر خارجہ

تہران(جانوڈاٹ پی کے)ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ جنگ بندی کی شرائط واضح اور دو ٹوک ہیں،حملے اورمذاکرات ایکساتھ چل سکتے،مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان دو ہفتے کی جنگ بندی کے باوجود لبنان میں جاری اسرائیلی حملوں نے ایک نئی سفارتی بحث کو جنم دے دیا ہے۔حالیہ ردِعمل میں کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کی شرائط واضح اور دو ٹوک ہیں،امریکا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ جنگ بندی چاہتا ہے یا اسرائیل کے ذریعے جاری جنگ، دونوں ایک ساتھ ممکن نہیں۔
اس بیان میں لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور تباہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ دنیا لبنان میں ہونے والے قتلِ عام کو دیکھ رہی ہے اور اب تمام نظریں واشنگٹن پر مرکوز ہیں کہ آیا امریکا اپنے وعدوں اور جنگ بندی معاہدے کی روح کے مطابق عملی اقدامات کرتا ہے یا نہیں۔ لبنان میں آج ہونے والے بڑے فضائی حملوں کے بعد یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے۔
اگرچہ امریکی اور ایرانی حکام نے جنگ بندی کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے، مگر اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ یہ جنگ بندی لبنان پر لاگو نہیں ہوتی۔ اسی مؤقف نے ایران، لبنان اور بعض ثالث ممالک میں شدید تشویش پیدا کی ہے، کیونکہ ابتدائی سفارتی اشاروں میں وسیع علاقائی جنگ بندی کی امید ظاہر کی گئی تھی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب اصل امتحان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات ہوں گے، جہاں یہ طے ہو سکتا ہے کہ آیا جنگ بندی صرف ایران تک محدود رہے گی یا اسے لبنان سمیت پورے خطے تک وسعت دی جائے گی۔ عالمی برادری کی توجہ اس بات پر ہے کہ امریکا خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے اثر و رسوخ کو کس حد تک استعمال کرتا ہے۔
The Iran–U.S. Ceasefire terms are clear and explicit: the U.S. must choose—ceasefire or continued war via Israel. It cannot have both.
The world sees the massacres in Lebanon. The ball is in the U.S. court, and the world is watching whether it will act on its commitments. pic.twitter.com/2bzVlHFKgi
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 8, 2026



