مشرق وسطیٰ جنگ،پاکستان اور چین فرنٹ لائن پر

​اسلام آباد/تہران(جانو ڈاٹ پی کے)​ایران نے امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے اپنی مشروط آمادگی کا اظہار کر دیا ہے اور اس حوالے سے پاکستان کو دو اہم شرائط سے آگاہ کیا گیا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق، ایران نے ان شرائط کی تکمیل کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کو ناگزیر قرار دیا ہے۔

​ایران کی 2بڑی شرائط

​پاکستان اور چین کی ضمانت: ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل کی صورت میں پاکستان اس معاہدے پر عمل درآمد کرانے کا ضامن (Guarantor) بنے۔ مزید برآں، ایران نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ اس تصفیے کے لیے چین کی ضمانت بھی حاصل کرے تاکہ امریکہ کو معاہدے کی پاسداری پر مجبور کیا جا سکے۔

​دفاعی معاہدہ اور تحفظ کی یقین دہانی: دوسری شرط کے مطابق، ایران نے پاکستان سے سعودی عرب کی طرز پر ایک ‘باہمی تزویراتی دفاعی معاہدہ’ (Mutual Strategic Defense Agreement) کرنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اس دفاعی تعاون میں بھی چین کی شمولیت اور ضمانت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔

​تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ شرائط مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے سیکیورٹی ڈھانچے (Security Paradigm) کی تشکیل کی جانب اشارہ کر رہی ہیں۔ رائٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق، ابنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے مشترکہ کنٹرول پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جس میں ایران کے علاوہ دیگر مسلم ممالک (سعودی عرب، ترکیہ اور مصر) کا کردار بھی شامل ہوگا۔

​پاکستان کے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کا حالیہ دورۂ چین اسی سلسلے کی کڑی ہے، جہاں وہ ایرانی شرائط کے تناظر میں چینی قیادت کو ضامن بننے پر آمادہ کرنے کی کوشش کریں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ سو سالوں میں پہلی بار مشرقِ وسطیٰ کے مستقبل کا فیصلہ کسی مغربی دارالحکومت کے بجائے اسلام آباد میں ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، جو کہ عالمی سیاست میں پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا ثبوت ہے۔

YouTube player

مزید خبریں

Back to top button