امریکا، ایران اور ثالثوں کی ممکنہ 45 روزہ جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا، ایران اور خطے کے ثالث ممالک ایران میں جنگ کے ممکنہ خاتمے کے لیے 45 دن کی عارضی جنگ بندی کی شرائط پر بات چیت کر رہے ہیں جس سے مستقل جنگ بندی تک کا راستہ نکل سکتا ہے۔

امریکی جریدے ایگزوس نے امریکی، اسرائیلی اور خطے کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ثالث فریقین دو مرحلوں پر مشتمل معاہدے کی شرائط پر بات کر رہے ہیں، جس کے پہلے مرحلے میں ممکنہ طور پر 45 دن کی جنگ بندی ہوگی، اس کے دوران مستقل جنگ بندی پر مذاکرات کیے جائیں گے۔

ایگزوس کی رپورٹ کے مطابق دوسرے مرحلے میں جنگ کے خاتمے پر حتمی معاہدہ طے کیا جائے گا، اگر مذاکرات کے لیے مزید وقت درکار ہوا تو اس عارضی جنگ بندی کو بڑھایا بھی جا سکتا ہے۔

اس حوالے سے وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ خارجہ نے فوری ردعمل ظاہر نہیں کیا تاہم اگلے 48 گھنٹوں میں کسی جزوی معاہدے تک پہنچنے کے امکانات کم ہیں لیکن یہ آخری کوشش جنگ میں اضافے کو روکنے کا واحد موقع ہے۔

 قبل ازیں امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے دعویٰ کیا کہ پاکستان، مصر اور ترکیہ ایران کو مذاکرات کیلئے منانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

وال سٹریٹ جرنل کے مطابق تینوں ممالک جنگ روکنے کی کوشش میں مصروف ہیں، لیکن اب تک کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوئی، ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا امریکی مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ واحد موقع ہے۔

یاد رہے کہ پاکستانی دفتر خارجہ نے واضح کیا تھا کہ ثالثی کے حوالے سے بھارتی میڈیا جھوٹے پراپیگنڈے میں مصروف ہے جس کی وجہ سے سفارت کاری کے متعلق خبریں پھیلائی جا رہی ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button