ایران میں حکومت مخالف مظاہرے 100 سے زائد شہروں میں پھیل گئے،47افراد ہلاک، 2500 گرفتار

تہران(جانوڈاٹ پی کے)ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں میں شدت آگئی ، انسانی حقوق کے غیر ملکی اداروں کا کہنا ہے کہ احتجاج 100 سے زائد شہروں میں پھیل چکا ہے۔

 تہران اور مشہد میں رات گئے حکومت کے خلاف سڑکوں پر مارچ کیا گیا، احتجاجی مظاہروں کے دوران  اب تک ہلاک افراد کی تعداد 47 ہوگئی  ہوچکی ہےجن میں کئی سکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ تقریباً 2500 افراد گرفتار ہیں۔

ایران میں انٹرنیٹ سروس ایک بار پھر بند کردی گئی ہے جبکہ ترکیے نے استنبول سے تہران جانے والی تمام  پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

ایرانی میڈیا نے کرمانشاہ میں مظاہروں کے دوران شرپسندوں کی جانب سے فائرنگ کیے جانے کی ویڈیو جاری کی ہے جس میں نقاب پوش افراد کو فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے جمعے کے خطاب میں کہا کہ ہے امریکا کے ہاتھ ایرانیوں کے خون سے رنگے ہیں، ایران کے کچھ فسادی عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر ٹرمپ کو خوش کرنے میں لگے ہیں۔

آیت اللہ کامنہ ای نے کہا کہ ایران تخریب کاروں سے نمٹنے میں پیچھے نہیں ہٹے گا،  احتجاج جائز ہے مگر احتجاج اور فساد میں فرق ہے،  حکومت مظاہرین سے بات کرے، تخریب کاروں سے بات کرنا فضول ہے ۔

ایران نے اقوام متحدہ سے ریاستی خودمختاری کے تحفظ اور بیرونی مداخلت روکنے کا مطالبہ بھی کیا ہے ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ داخلی معاملات پر امریکی بیانات مداخلت اور دھوکا دہی ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button