ایران کا ماسٹر سٹروک،واشنگٹن اور تل ابیب کی شہ رگ تہران کے قبضے میں!

تحریر:معظم فخر
تہران کے حالیہ اقدامات نے عالمی سیاست کے ایوانوں میں ایک ایسا تزویراتی زلزلہ برپا کر دیا ہے جس کی تپش اب واشنگٹن کے بند کمروں میں بھی محسوس کی جا رہی ہے۔ ایران نے محض لفاظی یا کھوکھلی دھمکیوں کے بجائے مشرقِ وسطیٰ کی بساط پر وہ مہرہ چل دیا ہے جس نے امریکہ اور اسرائیل کی عسکری برتری کے بت پاش پاش کر دیے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کی حالیہ رپورٹ اس تلخ حقیقت کا ایک اعترافِ جرم ہے کہ ایران نے اسرائیل کے گرد ‘آگ کا وہ گھیرا’ مکمل کر لیا ہے جسے توڑنا اب جدید ترین ٹیکنالوجی کے بس میں بھی نہیں رہا۔ ایران کی اصل چال یہ نہیں تھی کہ وہ ایک بڑی جنگ چھیڑے، بلکہ اس کی اصل کامیابی وہ ‘تزویراتی صبر’ اور خاموش ناکہ بندی ہے جس نے بحیرہ احمر سے لے کر بحیرہ روم تک امریکہ کی بحری بالادستی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ یمن کے حوثیوں سے لے کر لبنان کی حزب اللہ تک، تہران نے اپنے حلیفوں کو اس حد تک خود مختار اور مہلک ہتھیاروں سے لیس کر دیا ہے کہ اب اسرائیل کی شہ رگ یعنی اس کی تجارتی اور دفاعی سپلائی لائن براہ راست تہران کے رحم و کرم پر ہے۔
امریکی دفاعی حلقوں میں اس وقت جس عمل کی سب سے زیادہ ‘پذیرائی’ یا یوں کہیے کہ خوف آمیز اعتراف کیا جا رہا ہے، وہ ایران کی مقامی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی کا ناقابلِ یقین ارتقا ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق، پینٹاگون کے ماہرین اس بات پر ششدر ہیں کہ برسوں کی سخت ترین پابندیوں کے باوجود ایران نے وہ ہائپرسونک اور اسٹیلتھ صلاحیتیں حاصل کر لی ہیں جنہوں نے اربوں ڈالر کے امریکی ‘پیٹریاٹ’ اور اسرائیل کے ‘آئرن ڈوم’ جیسے دفاعی نظاموں کو محض تماشائی بنا کر رکھ دیا ہے۔ ایران نے اسرائیل کی اس دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا ہے جہاں اب موساد اور سی آئی اے کا انٹیلیجنس نیٹ ورک بھی بے بس نظر آتا ہے، کیونکہ تہران نے جنگ کو میدانِ کارزار سے نکال کر دشمن کے اعصاب اور معیشت پر سوار کر دیا ہے۔ یہ محض ایک فوجی پیش رفت نہیں بلکہ ایک نئے عالمی نظام کا دیباچہ ہے جہاں اب مشرقِ وسطیٰ کے فیصلے واشنگٹن کے بجائے اس خطے کی اپنی طاقتیں کر رہی ہیں، اور امریکہ کے پاس اس وقت سوائے اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے اور کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔



