لہو رنگ لبنان اور ہرمز کا ’ڈارک فلیٹ‘: مکار چالوں کا ہوشیار جواب

نہال معظم:
مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ بساط پر لبنان کا محاذ ہو یا آبنائے ہرمز کی لہریں، یہ محض اتفاقی واقعات نہیں بلکہ ایک گہرے عسکری اور معاشی ٹکراؤ کا تسلسل ہیں جس کا مقصد خطے کے جغرافیے کو ہمیشہ کے لیے تبدیل کرنا ہے۔ صور اور نبطیہ پر اسرائیل کی حالیہ بمباری اس وقت شروع ہوئی جب واشنگٹن میں جنگ بندی کے مسودے پر بات ہو رہی تھی۔ یہاں اسرائیل اور امریکہ کی مکاری اپنے عروج پر نظر آتی ہے؛ ایک طرف اسرائیل یہ مضحکہ خیز منطق پیش کر رہا ہے کہ جنگ بندی کی کوششیں اور معاہدہ تو امریکہ اور ایران کے درمیان ہوا ہے، اس لیے وہ ان کا پابند نہیں، جبکہ دوسری طرف یہ پوری کارروائی شروع ہی اسرائیل کی شہہ اور امریکی سرپرستی میں کی گئی تھی۔ یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ سفارتی میز پر ہونے والی گفتگو صرف اسرائیل کو ‘عسکری اہداف’ حاصل کرنے کے لیے وقت فراہم کرنے کا بہانہ ہے۔ لبنان کو ایک ریاست کے طور پر نظر انداز کرنا اور اسے محض ایک میدانِ جنگ سمجھ کر چھوڑ دینا اس مکارانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو خطے میں پائیدار امن نہیں بلکہ مستقل خوف اور امریکی بالادستی چاہتی ہے۔
جنوبی لبنان کی بستیوں سے اٹھتا ہوا دھواں اور صور و نبطیہ کی سڑکوں پر بکھرا ہوا لہو اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ ‘گریٹر مڈل ایسٹ’ کے خواب کی تعبیر کے لیے انسانیت کو کس بے دردی سے ذبح کیا جا رہا ہے۔ یہ دھواں صرف عمارتوں کے گرنے کا نہیں بلکہ اس عالمی ضمیر کی راکھ ہے جو ڈالر اور دفاعی مفادات کے بوجھ تلے دب کر دم توڑ چکا ہے۔ ایران نے اسرائیل کے اس ‘سفارتی دھوکے’ کو بھانپ لیا ہے اور وہ لبنان پر ہونے والے ان حملوں کو امن معاہدے کی کھلی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے۔ ایران نے فراموش نہیں کیا کہ لبنان کا دفاع اس کی سٹریٹجک ضرورت ہے، اسی لیے اس نے اسرائیل کی اس مکاری کا جواب انتہائی ہوشیاری سے ‘اکنامک وار فیئر’ کی صورت میں دیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی دوبارہ بندش اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر نئی سخت شرائط، بشمول پیشگی فوجی اجازت نامے اور بھاری ٹرانزٹ فیس، براہِ راست اس عالمی نظام پر حملہ ہے جو اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے۔
جب ایران نے روزانہ صرف 15 جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا، تو اس کا مقصد صرف ٹریفک کنٹرول کرنا نہیں بلکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر بڑھا کر مغرب پر وہ معاشی دباؤ ڈالنا تھا جو لبنان میں اسرائیلی مہم جوئی کی قیمت بن سکے۔ ایران اس وقت دنیا کے کل خام تیل کی سپلائی کا 20 سے 25 فیصد کنٹرول کر رہا ہے، اور اس شہ رگ پر ہاتھ رکھ کر اس نے واشنگٹن کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر اس کے اتحادیوں (لبنان) پر ضرب لگی تو عالمی معیشت کا پہیہ جام کر دیا جائے گا۔ اس پوری صورتحال میں سب سے اہم اور خاموش پہلو ‘ڈارک فلیٹ’ (Dark Fleet) کا ہے، جو عالمی پابندیوں کے پرخچے اڑا رہا ہے۔ یہ تقریباً 600 سے زائد ایسے بحری ٹینکرز پر مشتمل ایک متوازی بیڑا ہے جو بین الاقوامی قوانین اور امریکی مالیاتی نظام کے دائرہ کار سے مکمل باہر کام کر رہا ہے۔ یہ ‘شیڈو فلیٹ’ کھلے سمندر میں اپنی شناخت چھپا کر تیل منتقل کرتا ہے، جس کی وجہ سے واشنگٹن کی معاشی پابندیاں محض ایک کاغذی کارروائی بن کر رہ گئی ہیں۔
صدر ٹرمپ کا امریکی افواج کو خطے میں برقرار رکھنے کا حالیہ فیصلہ اور ‘جنگ بندی’ کے عمل میں تعطل ایران کی اس بڑھتی ہوئی سمندری طاقت کا توڑ کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ اسرائیل کی مکاری یہ ہے کہ وہ یہ دعویٰ کر کے لبنان میں قتلِ عام جاری رکھنا چاہتا ہے کہ وہ کسی معاہدے کا حصہ نہیں، جبکہ ایران کی ہوشیاری یہ ہے کہ اس نے سمندروں کے سینے میں ایک ایسا متوازی راستہ بنا لیا ہے جسے بمبار طیاروں سے تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ جنگ اب صرف زمین پر نہیں بلکہ ان خفیہ سمندری گزرگاہوں اور کرپٹو کرنسی کے اکاؤنٹس میں لڑی جا رہی ہے جہاں امریکی ڈالر کا اثر و رسوخ تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ ایران نے کرپٹو کرنسی میں ٹرانزٹ فیس مانگ کر پیٹرو ڈالر کی بالادستی کو وہ زخم لگایا ہے جس کا علاج فی الحال کسی سپر پاور کے پاس موجود نہیں ہے۔
لبنان کی بستیوں سے اٹھتا ہوا دھواں اور بکھرا ہوا لہو اس عالمی ضمیر کا نوحہ ہے جو سیاسی مصلحتوں تلے دب چکا ہے۔ لیکن دوسری طرف، آبنائے ہرمز کی لہروں میں چھپی ایران کی ‘ہوشیار باش’ پالیسی نے ثابت کر دیا ہے کہ اب طاقت کا توازن تبدیل ہو چکا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جوڑی یہ سمجھتی تھی کہ وہ عسکری چالاکیوں سے خطے کا نقشہ بدل دیں گے، مگر ڈارک فلیٹ کی صورت میں موجود ‘اقتصادی گوریلا وار’ نے ان کے تمام حساب کتاب الٹ دیے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب مکاری اور ہوشیاری کا ٹکراؤ ہوتا ہے تو جیت ہمیشہ اس کی ہوتی ہے جو خاموشی سے دشمن کی شہ رگ پر ہاتھ رکھ دیتا ہے۔



