کروڑوں روپے کا ٹیکس،ایک ٹکے کی سہولت نہیں،روہڑی میں سندھ اسمال انڈسٹریز کے صنعتی علاقے حکومتی غفلت کی مثال بن گئے

سکھر (جانوڈاٹ پی کے) روہڑی کا صنعتی علاقہ بنیادی سہولیات سے محروم، سندھ اسمال انڈسٹریز میں قائم ملیں مسائل کا شکار، کروڑوں کا ٹیکس مگر سہولتیں ناپید ،روہڑی میں قائم سندھ اسمال انڈسٹریز کے صنعتی علاقے میں متعدد فلور ملز، رائس ملز اور دیگر صنعتیں قائم ہیں جہاں سے حکومتِ سندھ کو سالانہ کروڑوں روپے کا ٹیکس وصول کیا جاتا ہے، مگر اس کے باوجود یہ اہم صنعتی علاقہ حکومتی اور انتظامی عدم توجہی کا شکار ہے۔ بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث صنعت کاروں، محنت کشوں اور علاقہ مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔تفصیلات کے مطابق صنعتی علاقے میں برسوں گزر جانے کے باوجود آمدورفت کے لیے پکی سڑکیں تعمیر نہیں کی جا سکیں۔ نکاسی آب کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں جبکہ پینے کے صاف پانی کی سہولت بھی علاقے میں ناپید ہے۔ پکی سڑک اور نکاسی آب کے مؤثر انتظام نہ ہونے کے باعث کچے راستوں پر گندا پانی اور کیچڑ جمع رہتا ہے، جس سے ملوں میں کام کرنے والے محنت کشوں اور کاروباری افراد کو روزمرہ آمدورفت میں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔علاقے میں قائم صنعتوں کے مالکان کا کہنا ہے کہ ان حالات میں صنعتی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں اور کاروباری ماحول بری طرح متاثر ہو چکا ہے، مگر سندھ اسمال انڈسٹریز کے متعلقہ حکام اس سنگین صورتحال پر توجہ دینے کو تیار نہیں۔جھولے لعل فلور مل کے ڈائریکٹر سریش کمار نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے سندھ اسمال انڈسٹریز کے علاقے میں قائم ملوں سے سالانہ کروڑوں روپے کا ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، مگر بدقسمتی سے ایک ٹکے کی سہولت بھی فراہم نہیں کی گئی۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ جب بھی اس حوالے سے متعلقہ حکام سے رابطہ کیا جاتا ہے تو اس مسئلے کو مسلسل نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔سریش کمار نے مزید کہا کہ حکومت اگر سندھ میں سرمایہ کاری اور کاروبار کے فروغ کی خواہاں ہے تو سب سے پہلے پہلے سے قائم صنعتوں کو وہ بنیادی سہولیات فراہم کرے جو ان کا حق بنتی ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سندھ اور صوبائی وزیرِ صنعت و تجارت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری نوٹس لیتے ہوئے روہڑی کے سندھ اسمال انڈسٹریز صنعتی علاقے میں سڑکوں، نکاسی آب اور پینے کے پانی سمیت تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ صنعتیں ترقی کر سکیں اور محنت کش محفوظ ماحول میں کام کر سکیں۔

مزید خبریں

Back to top button