سکھر:دریائے سندھ میں پانی کی شدید کمی،آبی حیات کو خطرہ، نایاب نسل کی اندھی ڈولفن مرنے لگی

سکھر(جانوڈاٹ پی کے) دریائے سندھ میں پانی کی شدید کمی،آبی حیات کی زندگیوں کو خطرات، نایاب نسل کی اندھی ڈولفن مرنے لگی،سالانہ آبی بندش کے باعث دریائے سندھ میں پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں دریا میں موجود آبی حیات کو خطرہ ھے، بالخصوص نایاب نسل کی اندھی ڈولفن (بلھن) مرنے لگی ہیں۔ لبِ مہران پارک کے قریب دریائے سندھ میں ایک نایاب اندھی ڈولفن مردہ حالت میں پانی پر تیرتی ہوئی دیکھی گئی، جس سے ماحولیاتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔عینی شاہدین کے مطابق ڈولفن کی لاش کافی دیر تک پانی میں تیرتی رہی، تاہم محکمہ جنگلی حیات کی جانب سے مردہ ڈولفن کو دریا سے نکالنے کے لیے کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی کے باوجود محکمہ جنگلی حیات نے اندھی ڈولفن کو بچانے اور محفوظ کرنے کے لیے کوئی مؤثر یا ہنگامی انتظامات نہیں کیے۔ماہرین کے مطابق اندھی ڈولفن صرف دریائے سندھ میں گڈو بیراج کے ڈاؤن اسٹریم سے سکر بیراج کے اپ اسٹریم تک محدود علاقے میں پائی جاتی ہے، جو اسے دنیا کی نایاب ترین آبی مخلوق میں شامل کرتی ہے۔ سال 2019 میں کی گئی ایک سروے رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ میں موجود اندھی ڈولفن کی مجموعی تعداد 1419 ریکارڈ کی گئی تھی۔ماحولیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر سال نوتال (کم پانی کا موسم) کے دوران دریائے سندھ میں پانی کی شدید کمی کے باعث اندھی ڈولفن کی اموات سامنے آتی ہیں، لیکن اس کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے اس نایاب نسل کے تحفظ اور بقا کے لیے کوئی ٹھوس حکمتِ عملی مرتب نہیں کی گئی۔شہری اور ماحولیاتی تنظیموں نے حکومتِ سندھ اور محکمہ جنگلی حیات سے مطالبہ کیا ہے کہ دریائے سندھ میں پانی کی مناسب فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور اندھی ڈولفن کے تحفظ کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں، بصورتِ دیگر یہ نایاب نسل شدید خطرے سے دوچار ہو سکتی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button