نئی دہلی میں اسرائیلی ڈرون فیکٹری دھماکے کا شکار،بڑی تعداد میں ہلاکتیں

دہلی / تہران(جانوڈاٹ پی کے)12مارچ 2026 کو بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں واقع انڈیا اور اسرائیل کی مشترکہ ڈرون فیکٹری میں ایک زوردار دھماکہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق50کے قریب افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ہلاک ہونے والوں میں اسرائیلیوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل بتائی جا رہی ہے۔ اس فیکٹری میں ‘ہارون’ اور ‘ہروپ’ جیسے جدید اسرائیلی ڈرونز تیار کیے جاتے تھے۔اگرچہ ابھی تک دھماکے کی وجوہات کا باضابطہ تعین نہیں ہو سکا، تاہم بھارتی میڈیا نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے اس کا ملبہ ایران اور مودی مخالف عناصر پر ڈالنا شروع کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران اس شبہ کی تحقیقات کر رہا ہے کہ اس کے بحری بیڑے پر ہونے والے حالیہ حملے کی مخبری بھارت نے کی تھی، جس کے بعد ایران کی جانب سے جوابی کارروائی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔
دوسری جانب، ایران اور اسرائیل کی جنگ میں شدت آ گئی ہے۔ گزشتہ رات ایران اور حزب اللہ نے تل ابیب سمیت کئی اسرائیلی شہروں پر بلسٹک میزائلوں اور کلسٹر بموں سے تابڑ توڑ حملے کیے، جس سے وہاں خانہ جنگی جیسی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق، ان حملوں میں اسرائیل کی مرکزی لیڈرشپ کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس میں موساد کے سربراہ ڈیوڈ بارنیا، ڈائریکٹر ملٹری انٹیلیجنس شلومی بنڈر، اور ایئر فورس کمانڈر ٹومر بار سمیت پانچ اہم شخصیات کی ہلاکت کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی اہم اجلاسوں سے غیر موجودگی ان افواہوں کو مزید تقویت دے رہی ہے کہ وہ بھی ان حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں۔



