مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں تنخواہ دار طبقے نے 266 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا

مجموعی انکم ٹیکس کا تقریباً دسواں حصہ تنخواہوں سے وصول

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے)جاری مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران تنخواہ دار افراد نے 266 ارب روپے سے زائد انکم ٹیکس ادا کیا، جو ملک بھر میں وصول ہونے والے مجموعی انکم ٹیکس کا تقریباً ہر دس میں سے ایک روپیہ بنتا ہے۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے جولائی تا دسمبر کے عبوری اعداد و شمار کے مطابق سرکاری اور نجی شعبے کے تنخواہ دار افراد کی جانب سے ادا کیا گیا انکم ٹیکس اسی مدت میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کی جانب سے ادا کیے گئے ٹیکس سے دو گنا سے بھی زیادہ رہا۔

اعداد و شمار کے مطابق تنخواہ دار طبقے نے 266 ارب روپے سے کچھ زائد انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 23 ارب روپے یا 9 فیصد زیادہ ہے۔ یہ وصولی بُک ایڈجسٹمنٹس کے بغیر کی گئی، جبکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں بُک ایڈجسٹمنٹس کے بغیر انکم ٹیکس وصولی 243 ارب روپے رہی تھی۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کا تنخواہ دار طبقہ ٹیکسیشن کے شدید بوجھ تلے دبا ہوا ہے، جبکہ ایف بی آر کی محدود استعداد کے باعث ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان، خصوصاً تنخواہ دار افراد اور صنعتکاروں پر ہی اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

تنخواہ دار افراد اپنی مجموعی آمدن کا اوسطاً 38 فیصد انکم ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جو نہ صرف خطے کے دیگر ممالک بلکہ رئیل اسٹیٹ اور ریٹیل سیکٹر کے مقابلے میں بھی نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

گزشتہ ماہ پاکستان بزنس کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے قومی کوآرڈینیٹر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز احمد نے اعتراف کیا تھا کہ مالی دباؤ کے باعث حکومت کے پاس ٹیکسیشن کے سوا کوئی اور فوری راستہ نہیں بچا، جبکہ کاروباری طبقہ نسبتاً آسان ہدف بن چکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق نان کارپوریٹ شعبے کے ملازمین نے سب سے زیادہ 117 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 فیصد زیادہ ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر کے ملازمین نے 82 ارب روپے ادا کیے، جس میں سال بہ سال 13 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ایف بی آر کو کم کر کے مقرر کیے گئے 6.5 ٹریلین روپے کے ٹیکس ہدف کے حصول میں شدید مشکلات کا سامنا رہا، جس کے باعث ادارے کو بھاری ایڈوانس وصولیوں اور ٹیکس دہندگان کے ریفنڈز کی ادائیگی میں سست روی اختیار کرنا پڑی۔ اس کے باوجود مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بمشکل 10 فیصد اضافہ ہو سکا، جو سالانہ ہدف کے لیے درکار شرح کا نصف ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق پہلے چھ ماہ میں ایف بی آر نے مجموعی طور پر 3.03 ٹریلین روپے انکم ٹیکس وصول کیا، جس میں سے تقریباً دس فیصد حصہ تنخواہ دار افراد سے حاصل ہوا۔

صوبائی حکومتوں کے ملازمین نے 39 ارب روپے انکم ٹیکس ادا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 7 فیصد کم ہے، جبکہ وفاقی ملازمین کی ادائیگیاں 27 ارب روپے رہیں، جن میں 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

دوسری جانب حکومت کی جانب سے امیر پنشنرز پر عائد نیا ٹیکس بھی خاطر خواہ نتائج نہ دے سکا۔ سالانہ ایک کروڑ روپے سے زائد پنشن پر نافذ اس ٹیکس سے بمشکل ایک ارب روپے سالانہ آمدن کی توقع کی جا رہی ہے۔ داخلی دباؤ کے باعث حکومت نے گزشتہ ماہ دوبارہ ریٹائرڈ ملازمین کو ایک سے زائد پنشن لینے کی اجازت بھی دے دی، جس سے پنشن اصلاحات کے دعوؤں کو نقصان پہنچا۔

رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں بھی ٹیکس وصولیوں میں اضافہ دیکھا گیا، جہاں نان فائلرز کے لیے بلند شرحیں اور لیٹ فائلرز کی نئی کیٹیگری متعارف کرائی گئی۔ پلاٹوں کی فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس کی وصولی دو تہائی اضافے کے ساتھ 87 ارب روپے تک پہنچ گئی، جبکہ پلاٹوں کی خرید پر وصولیاں 29 فیصد کم ہو کر 39 ارب روپے رہیں۔

مجموعی طور پر حکومت نے مالی سال کے پہلے نصف میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر سے 126 ارب روپے ودہولڈنگ ٹیکس وصول کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔

مزید خبریں

Back to top button